یونیورسٹی لا کالج کوئٹہ میں ایک روزہ ثالثی (Arbitration) کی تربیتی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ یہ تربیت وزارتِ قانون و انصاف کے تحت قائم انٹرنیشنل میڈی ایشن اینڈ آربیٹریشن سینٹر (IMAC) نے بلوچستان ہائی کورٹ، بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن، بلوچستان بار کونسل اور یونیورسٹی لا کالج کے تعاون سے منعقد کی۔
اس تربیت کا مقصد وکلا اور دیگر ماہرین کو ثالثی اور متبادل انصاف کے جدید طریقہ کار سے ہم آہنگ کرنا تھا۔ ہائی کورٹ بلوچستان کے معزز جج، جناب جسٹس اقبال احمد کاسی نے اختتامی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ثالثی اور مصالحت جیسے طریقے ہمارے مقامی رواج کا حصہ ہیں اور یہ عدالتوں میں بڑھتے ہوئے مقدمات کے بوجھ کو کم کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔
انہوں نے نوجوان وکلا کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے موکلین کو ADR اختیار کرنے کی ترغیب دیں کیونکہ یہ سب سے تیز اور کم خرچ طریقہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نوجوان وکلا کے لیے ADR ایک روشن پیشہ ورانہ مستقبل رکھتا ہے۔ جسٹس کاسی نے ADR کے فروغ کے لیے IMAC اور وزارتِ قانون و انصاف کی کاوشوں کو بھی سراہا۔بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر میر عطا اللہ لانگو نے اس تربیت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کے وژن کا حصہ ہیں۔
انہوں نے بلوچستان کے وکلا کے لیے یہ موقع فراہم کرنے پر IMAC اور وفاقی وزارت قانون و انصاف کا شکریہ ادا کیا۔بلوچستان بار کونسل کے وائس چیئرمین رحمت اللہ بڑیچ نے اس تربیت کو بروقت قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ خاص طور پر نوجوان وکلا کے لیے یہ تربیت نہایت فائدہ مند ہے اور انہیں بدلتے ہوئے قانونی تقاضوں کے مطابق تیار کرنے میں مددگار ہوگی۔
پروفیسر عصمت اللہ کاکڑ نے بھی طلبہ اور نوجوان وکلا کے لیے اس طرح کی تربیت کو انتہائی ضروری قرار دیا اور کہا کہ اس سے ان کی پیشہ ورانہ تیاری بہتر ہوگی۔اس تربیت میں عالمی شہرت یافتہ ثالثین میاں شیراز جاوید اور سید حماد یوسف گیلانی نے لیکچرز دیے۔ موضوعات میں ADR کی بنیادی سمجھ، ملکی و غیر ملکی ثالثی کے ڈھانچے، طریقہ کار اور عملی پہلو شامل تھے۔
شرکا نے تربیت کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے انہیں عملی علم اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ثالثی سے آگاہی ملی۔ ان کا کہنا تھا کہ حاصل کردہ مہارتیں انہیں بلوچستان اور ملک بھر میں ADR کے فروغ میں زیادہ مثر کردار ادا کرنے کے قابل بنائیں گی۔رجسٹرار IMAC احسان اللہ خان نے اختتامی تقریب میں جسٹس اقبال احمد کا سی کی آمد پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے مہمانوں، تربیت کاروں اور شرکا کا بھی شکریہ ادا کیا جن کی بھرپور شرکت اور تعاون نے تربیت کو کامیاب بنایا۔
یہ تربیت IMAC کے اس وسیع تر مشن کا حصہ ہے جس کے تحت پاکستان میں ADR کو ادارہ جاتی بنیادوں پر فروغ دیا جا رہا ہے۔ اپنے قیام کے بعد سے IMAC وکلا، ججوں، سرکاری افسران، کاروباری طبقے اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے لیے مختلف تربیتی پروگرام منعقد کر رہا ہے تاکہ تنازعات کے بروقت اور کم خرچ حل کو یقینی بنایا جا سکی