مولوی ایاز مرحوم کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں ،زندگی دین، خدمت خلق ،جماعتی استحکام کیلئے وقف کی، مولانا فضل الرحمن

جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن جمعیت علما اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع کے چچا مرحوم مولوی آیاز کی وفات پر تعزیت کے لیے ان کی رہائش گاہ پہنچے۔ انہوں نے مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی اور لواحقین سے دلی ہمدردی و تعزیت کا اظہار کیا۔
اس موقع پر جمعیت کے مرکزی ناظمِ مالیات مولانا صلاح الدین ایوبی، صوبائی جنرل سیکرٹری مولانا آغا محمود شاہ، اور دیگر اہم ذمہ داران موجود تھے۔اس موقع پر مولانا فضل الرحمن نے گفتگو کرتے ہوئے مولوی ایاز مرحوم کی دینی، جماعتی اور سماجی خدمات کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ قلعہ سیف اللہ میں مرحوم کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں انہوں نے اپنی پوری زندگی دعوتِ دین، خدمتِ خلق اور جماعتی استحکام کے لیے وقف کر دی۔

وہ جمعیت کا سرمایہ افتخار ہیں، جنہوں نے نامساعد حالات میں بھی دین اور جماعت کے پرچم کو بلند رکھا۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے۔درایں اثنا، قائدِ جمعیت نے جمعیت طلباء اسلام (جے ٹی آئی) کے مرکزی انتخابات میں شرکت کی اور نومنتخب مرکزی صدر و جنرل سیکرٹری کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے طلباء سے خطاب کیا۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جمعیت طلباء اسلام دراصل جمعیت علما اسلام کا فکری و نظریاتی ہراول دستہ ہے، جو ملک کے تعلیمی اداروں میں فکری بیداری، دینی شعور اور نظریاتی استحکام کی جنگ لڑ رہا ہے۔ انہوں نے طلباء پر زور دیا کہ وہ علم کے حصول کو مقصدِ حیات بنائیں، اخلاقی اقدار کو اپنی شناخت بنائیں، اور کردار و گفتار سے دین کا وقار بڑھائیں۔
انہوں نے کہا کہ آج کا طالبِ علم کل کا رہنما ہے، اس لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ ملی و سیاسی شعور کو بھی اجاگر کرے۔ انھوں نے کہا کہ جمعیت طلباء اسلام کے نوجوانوں کو دستور کی پاسداری کے اصولوں پر کاربند رہنا چاہیے، کیونکہ یہی جمعیت کی فکری اساس ہے۔انہوں نے مزید فرمایا کہ دنیا تیزی سے نظریاتی تصادم کے دور میں داخل ہو چکی ہے، ایسے میں جمعیت طلباء اسلام کے نوجوانوں کی ذمہ داری دوچند ہو جاتی ہے کہ وہ اسلامی تہذیب، قرآن و سنت کی تعلیمات، اور دینی خودمختاری کے دفاع میں ہر محاذ پر اپنا کردار ادا کریں۔
مولانا فضل الرحمن نے طلباء کو تلقین کی کہ وہ نظریاتی وفاداری، تنظیمی نظم و ضبط، اور اجتماعی مشاورت کو اپنی جدوجہد کا محور بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت کا ہر رکن اس عزم کے ساتھ آگے بڑھے کہ وہ علم و عمل، اخلاص و قربانی، اور استقلال و ایثار کی روایت کو زندہ رکھے گا۔ کہ جمعیت طلباء اسلام کو اپنے ماضی پر فخر اور مستقبل پر یقین ہونا چاہیے، کیونکہ یہی وہ پلیٹ فارم ہے جس نے ملک کے دینی و سیاسی منظرنامے کو ہمیشہ صالح قیادت دی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.