کوئٹہ: صوبائی مشیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے کہا ہے کہ کیچ میں 2بچوں کے قتل کے واقعہ کے بعد 4ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے،
کوئٹہ ائیرپورٹ روڈ تھانہ میں قیدی کے جھلس کر جاں بحق ہونے کے معاملے میں ذمہ داران کو سزادی جائے گی اور لواحقین کو انصاف فراہم کریں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتے کو ڈی آئی جی کرائم برانچ وزیرخان ناصر کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
ضیا لانگو نے بتایا کہ 10اکتوبر کو کیچ میں 2بچوں کو قتل کیا گیا جس کے خلاف سوشل میڈیا پر سیکورٹی فورسز کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ایف آئی آر لیویز نے درج کی تاہم بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے تفتیش کرائم برانچ کے حوالے کردیا جنہوں نے بھرپور کوششوں کے بعد نبیل ہاشم 4ساتھیوں سمیت گرفتار کیا گیا جنہوں نے معصوم بچوں کے قتل سمیت سیکورٹی فورسز اور شہریوں پر حملوں کا اعتراف کرلیا ہے ملزم عقیل جو تاحال فرار ہے ان کے گھر میں دستی بم بچوں نے پن نکال لیا تھا جس سے دھماکے میں دونوں بچے جاں بحق ہوئے تھے
ایک سوال کے جواب میں ضیا اللہ لانگو نے کہا کہ بلوچستان میں اب بھی حالات آئیڈل نہیں تاہم سیکورٹی فورسز جانوں کی قربانیاں دے کرصوبے میں امن وامان کی بہتری کیلئے بھرپور طور پر اقدامات اٹھارہے ہیں ویڈیو سکینڈل کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کسی بھی مجرم کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کی جائیگی ایئرپورٹ پولیس تھانے میں قیدی کی ہلاکت کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مشیر داخلہ ضیا اللہ لانگو نے کہا کہ اس واقعے میں ملوث ایس ایچ او سمیت 4پولیس اہلکاروں کے خلاف ضرور کارروائی ہوگی مقتول کے خاندان کو انصاف فراہم کرینگے ایک اور سوال کے جواب میں مشیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ہمسائیہ ملک کی جانب سے اب بھی بلوچستان کے حالات کو خراب کرنے کیلئے بھاری برقم فنڈنگ کررہے ہیں جس کیلئے سیکورٹی فورسز بھرپور طور پر اقدامات اٹھارہے ہیں سبی میں دو گروپوں میں فائرنگ سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ بلوچستان میں قبائلی جھگڑے بھی صوبے میں امن وامان کی خرابی میں ایک سبب ہے تاہم متعلقہ حکام کو ملوث افراد کی گرفتاری کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔