صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے دی جانے والی کال پر کوئٹہ میں شٹر ڈائون اور پہیہ جام ہڑتال کی گئی ۔ہڑتال کے دوران امن وامان میں خلل ڈالنے اور زبردستی روڈز بلاک کرنے اور ہڑتال کروانے پر پولیس کی جانب سے کوئٹہ کے مختلف علاقوں ایئر پورٹ روڈ ، خیزی چوک ، مشرقی اور مغربی بائی پاس ، نواں کلی بائی باس سمیت دیگر علاقوں میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی اور پولیس کی جانب سے زبردستی روڈ بلاک کرانے کے الزام میں تقریباً 215کے قریب سیاسی رہنمائوںا ور کارکنوں کو گرفتار کرکے مختلف تھانوں میں بند کردیا گیا ۔
ہڑتال کے دوران کوئٹہ میں تمام چھوٹے بڑے کاروباری مراکز ، مارکیٹیں ، پلازے اور دکانیں بند رہیںجبکہ شہر میں ٹریفک کا فلو بھی کم تھا شہر اور نواحی علاقوں میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی مختلف مقامات پر سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی جانب سے ٹائر بھی جلائے گئے۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان نے 8 فروری 2024 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف ملک بھر میں پہیہ جام اور شٹر ڈائون ہڑتال کی کال دی تھی۔
ہڑتال کے دوران تحریک تحفظ آئین پاکستان کے کارکنوں نے ایئرپورٹ روڈ اور کوئٹہ شہر کے مشرقی ، مغربی اور نواں کلی بائی پاسز پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کے علاوہ ٹائر جلائے جبکہ دوسری جانب پولیس اہلکاروں کی جانب سے ٹریفک کو بحال کرنے کی کوشش کی جاتی رہی۔پولیس کی جانب سے گزشتہ روز شہر میں دفعہ 144 کے نفاذکا کہا گیا تھا اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف 3 ایم پی او کے تحت کاروائی کی جائے گی۔
ہڑتال کے دوران سڑکوں کو بند کرنے پر پولیس کی جانب سے سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لئے ایئر پورٹ روڈ ، خیزی چوک مشرقی، مغربی اور نواں کلی بائی پاس پر آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی اور پولیس کی جانب سے زبردستی ہڑتال کرانے کے الزام میں سیاسی جماعتوں کے 215 سے زائد کارکنوں کو گرفتار کرکے مختلف تھانوں میں بند کردیا گیا تحریک تحفظ آئین پاکستان کے یوم سیاہ اور ہڑتال کی کال پر بلوچستان کے متعدد شہروں میں بھی شٹرڈائون اور پہیہ جام ہڑتال کی گئی ۔ہڑتال کی وجہ سے کاروباری امور ٹھپ رہے جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔