بلوچستان کے کوٹے پر وفاقی محکموں میں جعلی ڈومیسائل پر بھرتیاں خلاف قانون ہے، کمیٹی بلوچستان کی عوام کے حقوق کا دفاع کرے گی،کمیٹی ارکان
کمیٹی کی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کوآئندہ اجلاس میں بلوچستان کوٹہ سے متعلق جامع تفصیلات کیساتھ آنے کی ہدایت
اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ بلوچستان کے کوٹے پر وفاقی محکموں میں جعلی ڈومیسائل پر بھرتیاں ہوئیں ۔
کمیٹی ارکان نے کہا کہ بلوچستان کے کوٹے پر وفاقی محکموں میں جعلی ڈومیسائل پر بھرتیاں خلاف قانون ہے، کمیٹی بلوچستان کی عوام کے حقوق کا دفاع کرے گی۔کمیٹی نے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کوآئندہ اجلاس میں بلوچستان کوٹہ سے متعلق جامع تفصیلات کے ساتھ آنے کی ہدایت کردی۔
بدھ کوقائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرپرسن کشور زاہرہ کی صدارت میں پارلیمنٹ لاجز میں منعقد ہوا۔کمیٹی نے متعلقہ محکموں کی جانب سے کمیٹی کو بریفنگ میٹریل نا ملنے پربرہمی کا اظہار کیا۔اجلاس میں بلوچستان کا وفاق میں مختص کوٹے کی آئینی مدت بڑھانے کے لیے رکن قومی اسمبلی عالیہ کامران کی جانب سے پیش کردہ بل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ عالیہ کامران نے کہا کہ کوٹے سے متعلق ترمیم کو غیر شرعی قرار دینے کا فیصلہ ناانصافی پر مبنی ہے۔کمیٹی نے کہا کہ بلوچستان کے کوٹے پر وفاقی محکموں میں جعلی ڈومیسائل پر بھرتیاں خلاف قانون ہے،کابینہ سیکرٹریٹ کمیٹی کو بلوچستان کے کوٹے والے معاملے پر تحفظات ہیں، کمیٹی اس معاملے کو قانون اور آئین کے مطابق بلوچستان کی عوام کے حقوق کا دفاع کرے گی، بلوچستان کا وفاق میں مختص شدہ کوٹے پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا، ڈومیسائل پر بھرتیوں کے طریق کار میں شفافیت کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ نادرہ ڈومیسائل کے اجرا میں شفافیت لانے کے لیے طریق کار وضع کرے۔کمیٹی ارکان نے کہا کہ بلوچستان کے کوٹے کا معاملہ جعلی ڈومیسائل کی وجہ سے پیش آیا ہے۔کمیٹی نے بلوچستان کے کوٹے میں ترمیم سے متعلق بل کو آئندہ اجلاس تک موخر کر دیا۔کمیٹی نے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو اگلی میٹنگ میں بلوچستان کوٹہ سے متعلق جامع تفصیلات کے ساتھ آنے کی ہدایت کردی۔کمیٹی نے سٹاف ویلفیئر آرگنائزیشن کے تنظیم نو سے متعلق رپورٹ اگلے اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت