بلوچستان اسمبلی میں پاکستان کے ایران ۔امریکہ جنگ بندی و ثالثی کے کردار کی ستائش، مشترکہ تہنیتی قرارداد منظور کرلی

بلوچستان اسمبلی نے پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی و ثالثی کے کردار کو سراہتے ہوئے مشترکہ تہنیتی قرارداد منظور کرلی,جمعہ کو بلوچستان اسمبلی کا اجلاس سپیکر عبدالخالق اچکزئی کی زیرصدارت شروع ہوا تو صوبائی وزراء ضیاء اللہ لانگو ،علی مدد جتک،حاجی نورمحمد دمڑ،پارلیمانی سیکرٹریز محمداصغررند، حاجی ولی محمد نورزئی ،ہادیہ نواز ،ارکان اسمبلی خیرجان بلوچ ،اشوک کمار ، فرح عظیم شاہ اور شاہدہ روف کی جانب سے مشترکہ تہنیتی قرارداد پیش کی گئی، یہ قرارداد وزیر داخلہ ضیا لانگو نے ایوان میں پیش کی،قرارداد کے متن کہا گیا کہ یہ ایوان حالیہ بین الاقوامی تنازعہ میں ریاست پاکستان کی سفارتی اور حکومتی قیادت کے ثالثی کے کردار کو سراہتے ہوئے امریکہ اورایران کے درمیان جنگ بندی کی خوش آئند پیش رفت پر دلی مسرت کااظہارکرتا ہے اوراس سلسلے میں بروقت ،متوازن ، پرامن اورنتیجہ خیز کردار پر خراج تحسین پیش کرتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایوان وزیراعظم محمدشہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو انکی سفارتی بصیرت،بہترین قیادت اور عالمی امن کے لئے کی جانے والی بے مثال خدمات کے لئے سراہتا ہے جنہوں نے تمام بین الاقوامی وعلاقائی قوتوں سے مفاہمت اور پرامن حل کی راہ ہموار کی ۔انہوں نے کہا کہ یہ ایوان تسلیم کرتا ہے کہ پاکستان نے ایک ذمہ دار اور امن دوست قوم کی حیثیت سے عالمی قیادت کی توجہ حاصل کی جس کے نتیجے میں ممکنہ بڑے تنازعہ کو جنگی بحران میں تبدیل ہونے سے روکا جس سے خطے اوردنیا میں امن واستحکام کا ماحول قائم ہوا ۔بلوچستان اسمبلی کا ایہ ایوان سفارتی اقدامات،ملکی وقار اور بین الاقوامی ساکھ میں اضافے کے لحاظ سے وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر کے کردار کواعلیٰ نمونہ قرار دیتا ہے نیز اس امر پر زوردیتا ہے کہ عالمی امن کے تحفظ کے لئے پاکستان کے سنجیدہ اور متوازن کردار کو مستقبل میں بھی مضبوطی سے جاری رکھا جائے گا ۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایوان امید ظاہر کرتا ہے کہ یہ جنگ بندی مستقل امن ، باہمی تعاون اورپر وقار عالمی تعلقات کا باعث بنے گی اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کی پرامن ترجیحات کو مزیدتقویت فراہم کرے گی۔ قرار داد کے متن میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے ایک ذمہ دار اور امن دوست قوم کی حیثیت سے عالمی قیادت کی توجہ حاصل کی ، عالمی امن کے تحفظ کے لئے پاکستان کے سنجیدہ اور متوازن کردار کو مستقبل میں بھی مضبوطی ملے گی امید ہے کہ پاکستان کی کاوشیں رنگ لائیں گی۔مشترکہ قرارداد پر اظہار خیال کرتے ہوئے صوبائی وزیر میر ضیا ء اللہ لانگو نے کہا کہ پاکستان کی کوششوں کی دنیا معترف ہے ہم نے خطے میں جانی و مالی نقصان کو کم کر کے سکون و امن فراہم کیا ہے۔

امید ہے کہ فریقین کے تعاون سے امن کی کوششیں کامیاب ہوں گی۔ صوبائی وزیر خوراک نور محمد دمڑ نے کہا کہ ایران امریکہ جنگ کے دوران دنیا امن چاہتی تھی اور پاکستا ن نے سب سے پہلے اس میں کردارادا کیا ہے جو کہ باعث افتخار ہے ، آج دنیا کی بڑی قوتوں کے مذاکرات پاکستان میں ہورہے ہیں جسکا تمام تر سہرا سیاسی و عسکری قیادت کو جاتا ہے ۔نیشنل پارٹی کے رکن اسمبلی خیر جان بلوچ نے کہا کہ دنیا میں اب بھی منفی قوتیں ہیں جو انتشار، خون ریزی پر یقین رکھتی ہیں مودی تشدد کو فروغ دینا چاہتے ہیں جس سے عالمی امن کو خطر ہ لاحق ہے پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے معاملہ فہمی کرتے ہوئے سوچ سمجھ کر قدم اٹھایا۔

انہوں نے کہا کہ پڑوسی ملک کی آگ ہمارے ملک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی تھی تمام ممالک کو مسئلے کو حل کی طرف لیکر جانا چاہیے،اراکین صوبائی اسمبلی فرح عظیم شاہ، ہادیہ نواز نے کہا کہ پاکستان نے پور ی دنیا کو تباہی سے بچایا جس پر سیاسی اور عسکری قیادت خراج تحسین کی مستحق ہے ۔پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رکن اشوک کمار نے کہا کہ اقلیتی برداری کی جانب سے قرارداد کی حمایت کرتا ہوں سیاسی اور عسکری قیادت نے خطرناک موڑ پر پاکستان اور بلوچستان کو بچایا ہے ۔جمعیت علماء اسلام کی رکن شاہدہ رئوف نے کہا کہ پاکستان کے ثالثی کے کردار کو جمعیت علماء اسلام سراہتی ہے یہ وقت سیاسی اختلافات کو بھلا کر قومی مفاد میں اکھٹے ہونے کا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ جنگ کو ٹالنا انسانیت کی خدمت ہے،صوبائی وزیر حاجی علی مدد جتک نے کہا کہ ایران۔ امریکہ جنگ میں ثالثی پاکستان کی سفارتی ،سیاسی اور عسکری کامیابی ہے اور آج دنیا بھر میں لوگ پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے ہیں ،پاکستان کی جانب آج کوئی بھی دشمن میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ جنگ بندی کرانے اور موثر سفارتکاری پر پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت خراج تحسین کی مستحق ہے ، صوبائی وزیر ریونیو میر عاصم کرد گیلو نے کہا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیرنے جنگ بندی جیسے کارخیر میں بہترین کردار ادا کیا ہےکیونکہ ایران جنگ کے اثرات براہ راست پاکستان اور بلوچستان پر مرتب ہوسکتے تھے ۔

اس موقع پر سپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالخالق اچکزئی نے کہا کہ ایرانی قوم کی یکجہتی ہمارے لیے مشعل راہ بن سکتی ہے ۔صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ آج ہم اپنی آنکھوں سے تاریخی فیصلے دیکھ رہے ہیں جس پر صدر مملکت، وزیراعظم ، وزیر خارجہ ،عسکری اور اینٹیلجنس اداروں کے شکرگزار ہیں ۔انہوں نے کہا کہ چین، ترکی، مصر ،سعودی عرب سمیت جن ممالک نے جنگ بندی میں ساتھ دیاہے ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔وزیر خزانہ بلوچستان نے کہا کہ پاکستان نے صبر وتحمل کو فروغ دیا ہے ہم نے خطے میں آگ بھڑکنے سے روکی ہے ۔اس موقع پر سپیکر بلوچستان اسمبلی کی ہدایت پر ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے ایوان میں مذاکرات کی کامیابی کے لیے دعا کرائی ۔

بعدازاں قرارداد کو پورے ایوان کی مشترکہ تہنیتی قرارداد کے طور پر منظور کرلیا گی۔ بعد ازاں بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں تحصیل حرمزئی کربلااورسرانان پرمشتمل نیاضلع بنانے کی بابت عملی اقدامات اٹھانے سے متعلق قرارداد کی بھی منظوری دی گئی،قرار داد جے یو آئی کے رکن صوبائی اسمبلی سید ظفر آغا نے پیش کی،قرارداد میں کہا گیا کہ تحصیل حرمزئی، تحصیل کربلا اور تحصیل سرانان کی آبادی 4لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔

حکومت بلو چستان تحصیل حرمزئی،کربلااورسرانان پرمشتمل نیاضلع بنانے کی بابت عملی اقدامات اٹھائے انہوں نے کہا کہ ایک تحصیل سے دوسری تحصیل تک گھنٹوں کا راستہ ہے آبادی کو مد نظر رکھتے ہوئے نیا ضلع بننے سے پشین کے مسائل حل ہوں گے،اس موقع پر رکن اسمبلی اصغر علی ترین نے قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ تمام اراکین اسمبلی سے گزارش ہے کہ حرمزئی اور کاریزوں کا مسئلہ حل کیا جائے،

اراکین کی حمایت کے بعد ایوان نے تحصیل حرمزئی،کربلااورسرانان پرمشتمل نیاضلع بنانے سے متعلق قرارداد منظور کرلی۔اجلاس میں پسنی فش ھاربرکی بحالی کی بابت عملی اقدامات اٹھانے سے متعلق قرارداد پیش کی گئی،قرارداد جماعت اسلامی کے رکن مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ پسنی فش ھار بر ماضی میں معاشی حب کا ایک اہم ستون رہا ہے

،پسنی فش ھار بر سے ہزاروں افراد کا روزگار وابستہ تھا ،گزشتہ کئی سالوں سے مٹی بھر جانے اور عدم توجہی کے باعث غیر فعال ہوچکا ہے اس لیے حکومت بلوچستان مذکورہ فش ھار بر کی بحالی کی بابت عملی اقدامات اٹھائے اور پسنی فش ھاربر کو جنگی بنیادوں پر بحال کیا جائے،ایوان میں بحث کے بعد ایوان نے پسنی ھاربر کی بحالی سے متعلق قرارداد منظور کرلی جس کے بعد سپیکر نے بلوچستان اسمبلی کا اجلاس 13اپریل تک ملتوی کردیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.