ایس ڈی پی میں شامل ہونے کے باوجود پسنی زیرو پوائنٹ تا سٹی ڈبل روڈ منصوبہ عملی طور پر شروع نہ ہوسکا

پسنی میں کروڑوں مالیت کا ڈبل روڈ منصوبہ غائب،پی ایس ڈی پی میں شامل ہونے کے باوجود پسنی زیرو پوائنٹ تا سٹی ڈبل روڈ منصوبہ عملی طور پر شروع نہ ہوسکا، عوامی حلقوں میں شدید تشویش،حکومت بلوچستان منصوبے کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائے،شہریوں کا تحقیقات اور فوری تعمیر کا مطالبہ،تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے ساحلی شہر پسنی میں کروڑوں روپے مالیت کے ڈبل روڈ منصوبے کی عدم تکمیل پر شہریوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پسنی زیرو پوائنٹ تا پسنی سٹی ڈبل روڈ کا منصوبہ حکومت کے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں شامل ہونے کے باوجود زمینی سطح پر کہیں نظر ہیں آتا۔ یہ منصوبہ سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کے دورِ حکومت میں پی ایس ڈی پی میں شامل کیا گیا تھا۔
منصوبے کا مقصد پسنی زیرو پوائنٹ سے شہر تک ڈبل روڈ تعمیر کرنا تھا تاکہ بڑھتی ہوئی ٹریفک کے دباؤ کو کم کیا جا سکے اور شہریوں کو سفری سہولیات فراہم ہوں تاہم کئی سال گزرنے کے باوجود منصوبے پر عملی کام شروع نہ ہوسکا جس کی وجہ سے عوام میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔

مقامی شہریوں اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ پسنی زیرو پوائنٹ تا شہر تک سڑک کی موجودہ حالت خستہ ہے جس کے باعث ٹریفک حادثات کا خطرہ بڑھ گیا ہے جبکہ روزمرہ سفر بھی شہریوں کے لیے مشکلات کا باعث بن چکا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ مکمل ہو جاتا تو نہ صرف ٹریفک کی روانی بہتر ہوتی بلکہ شہر کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتا۔شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ کروڑوں روپے کے اس منصوبے کے بارے میں واضح معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں اور یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ منصوبہ کاغذوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ اس منصوبے کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائے اور اس بات کی وضاحت کرے کہ اب تک تعمیراتی کام کیوں شروع نہیں کیا گیا۔عوامی و سماجی حلقوں نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اس اہم منصوبے کی فوری تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور پسنی زیرو پوائنٹ تا سٹی ڈبل روڈ کی تعمیر کا کام جلد از جلد شروع کر کے اسے مکمل کیا جائے تاکہ شہریوں کو درپیش سفری مشکلات کا خاتمہ ہو سکے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.