معصوم بچی کے ساتھ زیادتی ہوئی

پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات محترمہ بشریٰ رند نے گزشتہ روز اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ کہ خواتین اور بچوں سے زیادتی کرنے والوں کو ایران اور ترکی کی طرز پر عبرتناک اور سخت ترین سزائیں دینے کی ضرورت ہے پچھلے ہفتے بھی کوئٹہ میں ایک معصوم بچی کے ساتھ زیادتی ہوئی کل پھر نواکلی میں 7 سالہ ایک معصوم بچی کی ساتھ زیادتی ہوئی آخر کب تک ہم ان درندوں کو محض چند سالوں کی سزائیں دے کے رحم دلی دکھاتے رہیں گے ۔بد قسمتی سے جب کسی خاتون یا بچی کے ساتھ زیادتی ہوجاتی ہے تو اس سے پورے خاندان کی زندگی تباہ ہو جاتی ہے۔ہم سب کو اس کرب اور درد کو محسوس کرنے کی ضرورت ہے جس سے ایک متاثرہ خاتون اور خاندان گزر رہا ہوتا ہے اور زیادتی میں مجرموں کو وہی سزائیں دی جائیں جن کے وہ مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں گزشتہ دنوں بچی کے ساتھ زیادتی میں ملوث ساتوں افراد کے سر قلم کردیئے گئے تو کیوں نہ ہم بھی کچھ ایسی سخت اقدامات اٹھائیں کہ جب زیادتی میں ملوث تین چار افراد کو ایسی عبرتناک سزائیں ملے گی تو پھر دوبارہ کسی میں جرات نہیں ہو گی کہ کوئی بچی اکیلی بھی آدھی رات کو گھر سے نکلیں یا کوئی لڑکی پڑھائی کے لیے گھر سے نکلیں یا کوئی خاتون کسی مجبوری میں کمانے کے لیے گھر سے نکلیں تو کوئی میلی آنکھ سے انھیں دیکھ نہ سکے۔ آئیں ہم سب مل کرایسے گندے لوگوں اور گندی نظر والوں کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے وفاق تک یہ آواز اٹھائیں کہ زیادتی میں ملوث مجرموں کو پھانسی دی جائے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.