18 فروری سے قبل عدم اعتماد کی تحریک جمع کرانے کی پیپلز پارٹی کی تجویز مسترد کر دی گئی
اسلام آباد:اپوزیشن جماعتوں نے نمبر گیم پورے ہونے تک وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع نہ کروانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے سے پیپلزپارٹی کی تجویز رد کر دی گئی ہے ۔ قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک منظور کروانے کے لئے اپوزیشن کو 9 ووٹوں کی ضرورت ہے ۔ اپوزیشن ذرائع نے آن لائن کو بتایا کہ پیپلزپارٹی نے تجویز دی تھی کہ 18 فروری کو قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے جا رہا ہے اس اجلاس سے قبل تحریک عدم اعتماد جمع کروا دی جائے ۔ قواعد اور آئین کے مطابق وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع کروانے کے لئے 20 فیصد اراکین کے تحریک پر دستخط ضروری ہیں ۔ پیپلزپارٹی کا یہ بھی موقف تھا کہ اجلاس شروع ہونے سےپہلے تحریک جمع کروانے پر حکومت پر دباؤ آئے گا ۔ تاہم اپوزیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک ایک بار جمع کروا دی گئی تو سپیکر اس پر کارروائی شروع کرنے کا پابند ہو گا ۔ اس لئے اس معاملے پر جلد بازی نہ کی جائے کیونکہ اپوزیشن کے پاس ابھی نمبر پورے نہیں ہیں ۔ تازہ ترین پارٹی پوزیشن کے مطابق قومی اسمبلی میں اس وقت اپوزیشن کی تمام جماعتوں کے اراکین کی تعداد 163 ہے جبکہ حکومتی اتحاد کے پاس 179 اراکین ہیں اپوزیشن کو تحریک کی کامیابی کے لئے172 اراکین ہر حال میں پورے کرنا ضروری ہیں اور ابھی ان کے پاس 9 اراکین کم ہیں اپوزیشن کو حکومتی اتحادیوں ( ق) لیگ اور ایم کیو ایم نے عدم اعتماد کی تحریک پر تعاون کا یقین نہیں دلایا ۔ دوسری طرف پی ڈی ایم تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لئے کمیٹی بھی نہیں بنا سکی جس کا اعلان مولانا فضل الرحمان نے سربراہی اجلاس کے بعد کیا تھا ۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اپوزیشن کو تحریک عدم اعتماد جمع کراتے وقت باقاعدہ ایجنڈا دینا ہو گا ۔#