صوبہ کی تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کی رینکنگ دوگنی ہوگئی ہے گورنربلوچستان

گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ ایک سال کی نگرانی میں صوبہ بلوچستان کے ہائیر ایجوکیشن سیکٹر میں اہم سنگ میل عبور کرلیا گیا ہے اورتقریباً تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کی رینکنگ دوگنی ہوگئی ہے۔بیوٹمز یونیورسٹی کا اسکور 80فیصد، ویمن یونیورسٹی کا 37 سے فیصد67 جبکہ یونیورسٹی آف بلوچستان کے اسکور کو 44 سے بڑھا کر 76 فیصدپر پہنچا دیا، یہ بات باعث فخر ہے کہ 25 برس کے بعد پہلی مرتبہ یونیورسٹی آف بلوچستان کے تمام بحرانوں کا خاتمہ کیا گیا۔
اس ضمن میں وائس چانسلر ڈاکٹر ظہور بازئی اور ان کی پوری ٹیم خراج تحسین کے مستحق ہیں ، مجموعی کارکردگی کو بہتر بنانے میں گورنمنٹ بلوچستان، ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، ہائیر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد اور یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز صاحبان کا خصوصی تعاون حاصل رہا۔

انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی آف بلوچستان میں بجلی کے روایتی طریقہ کار کو سولر انرجی پر منتقل کر کے تقریباً دو کروڑ پچاس لاکھ روپے کی بچت کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں، تعلیمی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے والے سات غیرضروری ڈیپارٹمنٹس کی بندش کے ساتھ اصلاحات کی جانب ایک جرات مندانہ قدم اٹھایا گیا ہے،تمام فیکلٹی ممبران اب اپنی تنخواہیں بروقت وصول کر رہے ہیں جو اکیڈمک کمیونٹی کیلئے استحکام اور تحفظ کو یقینی بنا رہے ہیں۔

ایک اور اہم کامیابی تمام کنٹریکٹ اور غیرقانونی ملازمتوں کا خاتمہ کر دیا گیا، شفافیت اور میرٹ کریسی کے رحجان کو فروغ دیتے ہوئے مالیاتی ذمہ داری کو بھی برقرار رکھا گیا ہے، تمام سیلف فنانس اکاؤنٹس کو یونیورسٹی کی تاریخ میں پہلی بار سینٹرلائزڈ کر دئے گئے.،اینول آپریشن کاسٹ میں پہلی مرتبہ 150 ملین روپے کی کمی لانے میں شاندار کامیابی حاصل کی۔
پیٹرول کے اخراجات میں 38 لاکھ سے 35 لاکھ تک نمایاں کمی لائی جا چکی ہے۔ علاوہ ازیں یونیورسٹی آف بلوچستان کی گورننس کو مضبوط کیا گیا ہے، سینیٹ اور سنڈیکیٹ کے اجلاسوں کو مقررہ وقت پر بلائے جاتے ہیں۔ کمپیوٹر سائنسز کے ماہرین نے جوسافٹ ویئر تیار کیا اس کے تحت اسٹوڈنٹس کے داخلے سے لے کر آخری ڈگری کے حصول تک تمام امور ڈیجیٹلائزڈ کر دیئے گئے ہیں ۔اس اقدام کا مقصد جامعہ بلوچستان کے حوالے سے بنیادی انقلابی اصلاحات اور غیرمعمولی کارکردگی کو اجاگر کرنا ہے،ہم یونیورسٹی کو بلوچستان بھر کے نوجوانوں کیلئے امید کی علامت کے طور پر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.