انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کا انفیکشن میڈیکل ویسٹ مینجمنٹ کیلئے خصوصی یلو ویسٹ گاڑیوں کا باضابطہ آغاز

انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک (IHHN) نے محکمہ صحت اور حکومتِ بلوچستان کے تعاون سے انفیکشس میڈیکل ویسٹ مینجمنٹ کے لیے خصوصی یلو ویسٹ گاڑیوں کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ یہ اقدام IHHN کے قومی انفیکشن پریونشن اینڈ کنٹرول (IPC) پروگرام کا حصہ ہے، جو ملک بھر میں انفیکشن کنٹرول کے محفوظ اور معیاری معیار کو فروغ دے رہا ہے۔
یہ پروگرام سکندر جمالی آڈیٹوریم ہال، ہیلتھ سیکریٹریٹ بلوچستان میں منعقد ہوا، جہاں صوبائی وزیرِ صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ نے افتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب میں محکمہ صحت بلوچستان کے افسران، یونیسف بلوچستان کے ڈاکٹر محمد ہمائیوں امیری، نیشنل ٹی بی کنٹرول پروگرام، IHHN کی قیادت اور دیگر ترقیاتی شراکت داروں نے شرکت کی۔

15 خصوصی موبائل یلو وینز ملک گیر اقدام کا حصہIHHN نے اپنے IPC پروگرام کے تحت پندرہ (15) خصوصی موبائل یلو وینز تیار کی ہیں، جو انفیکشس میڈیکل ویسٹ کے محفوظ اور معیاری طریقے سے جمع، ترسیل اور ٹھکانے لگانے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں۔

ان میں سےدو (02) وینز کوئٹہ اور قلعہ سیف اللہ میں پائلٹ مرحلے کے طور پر آپریشنل کی جا رہی ہیں۔یہ وینز ہسپتالوں، مراکز صحت اور دیگر طبی اداروں سے انفیکشس ویسٹ کو عالمی معیار کے مطابق منتقل کرنے کے لیے تیار کی گئی ہیں۔صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ نے افتتاح کرتے ہوئے کہاکہ صحت کے فضلے کا درست انتظام ایک بنیادی ضرورت ہے، انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کا یہ اقدام ہمارے مریضوں، ہیلتھ کیئر ورکرز اور صوبے کی عوام کے لیے زیادہ محفوظ ماحول کی طرف ایک مضبوط قدم ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس پروگرام کی کامیابی صوبائی اور ضلعی سطح پر مثر تعاون اور عملدرآمد پر منحصر ہے،انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے خیالات IHHN کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر، کمیونٹی ہیلتھ ڈائریکٹوریٹ ڈاکٹر ماہِ طلعت نے کہاکہ یہ پیلی گاڑیاں ایک مکمل اور قابلِ اعتماد سسٹم کی نمائندگی کرتی ہیں، یہ صرف ٹرانسپورٹ نہیں بلکہ ایک جامع ویسٹ مینجمنٹ فریم ورک ہے، جو صحت کے نظام سے جڑے ہر انسان کی حفاظت کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
یہ اقدام نہ صرف بلوچستان میں انفیکشن کنٹرول کے عالمی معیار کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا بلکہ مریضوں، ہیلتھ کیئر ورکرز اور عوام کے لیے ایک محفوظ اور صحت مند ماحول کے قیام میں بھی سنگِ میل ثابت ہوگا۔ اس کے ذریعے صحت کے نظام میں شفافیت، مثر مینجمنٹ اور جدید معیار کی پاسداری کو فروغ ملے گا، جو صوبے کے لیے دیرپا فائدہ مند ثابت ہوگا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.