وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان مینا مجید بلوچ نے صوبائی اسمبلی میں کم عمری کی شادی کی ممانعت سے متعلق بل کی منظوری کو تاریخی اور انقلابی پیش رفت قرار دیا ہے ۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ کم عمری کی شادی نہ صرف بچیوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ ان کی صحت، تعلیم اور مستقبل پر شدید منفی اثرات ڈالتی ہے ،بلوچستان اسمبلی نے ایک ایسا فیصلہ کیا ہے جو آنے والی نسلوں خصوصاً بچیوں کے محفوظ، بااختیار اور روشن مستقبل کی ضمانت ثابت ہوگا ۔
انہوں نے کہا کہ حکومتِ بلوچستان نے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں خواتین و بچوں کے تحفظ کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیا ہے اور یہ قانون سازی اسی وژن کا تسلسل ہے ،یہ بل نہ صرف ایک قانونی اقدام ہے بلکہ سماجی اصلاحات کی جانب عملی قدم ہے جو پورے صوبے میں مثبت تبدیلی کی بنیاد رکھے گا ۔
انہوں نے اس قانون کے پاس ہونے میں کردار ادا کرنے والے تمام اراکینِ اسمبلی، سول سوسائٹی، خواتین حقوق کے کارکنان اور متعلقہ اداروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس قانون پر عملدرآمد کے لیے تمام ادارے مشترکہ طور پر مؤثر حکمت عملی ترتیب دیں گے ۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل خاص طور پر اس قانون کا مثبت اثر محسوس کرے گی کیونکہ یہ اقدام بچیوں کو تعلیم، کھیل اور زندگی کے دیگر مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کرے گا ۔ مینا مجید بلوچ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے میں بچیوں کے حقوق کے تحفظ اور بااختیار بنانے کے لیے آئندہ بھی بھرپور اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔