حکومت بلوچستان کا تاریخی اقدام صوبے کے سب سے بڑے “بزنس اسکل مقابلوں” کا کامیاب انعقاد

حکومت بلوچستان کے زیر اہتمام صوبے کی تاریخ کا سب سے بڑا دو روزہ ’’بزنس اسکل مقابلہ‘‘ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا۔ یہ شاندار مقابلہ وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی متحرک قیادت اور نوجوانوں کے لیے خصوصی اقدامات کے تحت منعقد کیا گیا جبکہ اس پورے پروگرام کی سرپرستی مشیر وزیراعلی برائے یوتھ افیئرز مینا مجید بلوچ نے کی۔
بلوچستان یوتھ سوشیو اکنامک ڈیویلپمنٹ پروگرام کے تحت صوبے کی معاشی و سماجی ترقی کے لیے اس تاریخی اقدام کو یوتھ پالیسی کے تحت صوبائی ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں شامل کیا گیا ہے جس کا مقصد بلوچستان کے نوجوانوں کو سیاسی، سماجی اور معاشی طور پر ایک مضبوط بنیاد فراہم کرنا ہے۔
ڈائریکٹوریٹ آف یوتھ افیئرز بلوچستان کے زیر اہتمام منعقدہ اس دو روزہ مقابلے میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے مختلف جامعات اور آن لائن پورٹل کے ذریعے شرکا کا انتخاب کیا گیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق مقابلے میں صوبے بھر سے 500 سے زائد باصلاحیت نوجوانوں نے حصہ لے کر اپنی کاروباری صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ افتتاح کے موقع پر ڈائریکٹر یوتھ افیئرز الیاس بلوچ نے کہا کہ نوجوانوں کو بااختیار بنانا صوبائی حکومت کا بنیادی وژن ہے تاکہ وہ مستقبل میں صوبے کی قیادت سنبھال سکیں۔اسپیشل ججز کے پینل نے پہلے روز نوجوانوں کی مختلف بزنس پچز اور ماڈلز کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔
یہ مقابلہ مجموعی طور پر 5 مختلف جدید ترین شعبوں پر مشتمل تھا بزنس آئیڈیاز اس کیٹیگری میں انفرادی اور گروپس کی شکل میں ریکارڈ 85 آئیڈیاز پیش کیے گئے۔بزنس کوئز کا سب سے زیادہ پرجوش مقابلہ اس کیٹیگری میں دیکھا گیا جہاں 115 نوجوانوں نے حصہ لیا۔ریپڈ سیل پچ اس انفرادی مقابلے میں 21 نوجوانوں نے اپنی مارکیٹنگ اور سیلز کی مہارتوں کا مظاہرہ کیا۔
بزنس ماڈل پروڈکٹ اس اہم شعبے میں 25 انفرادی اور گروپ شرکا نے اپنے تیار کردہ کاروباری ماڈلز ججز کے سامنے رکھے، بزنس اشتہارات کے حوالے سے نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو پرکھنے کے لیے 11 گروپس نے بزنس ایڈز کے مقابلے میں حصہ لیا۔دو روزہ کڑے مقابلے اور ججز کی حتمی مارکنگ کے بعد اختتامی تقریب میں پوزیشن ہولڈرز کا باقاعدہ اعلان کیا گیا۔
ٹیم کیٹیگری میں شاندار اور اچھوتے کاروباری پلانز پیش کرنے پر میر چاکر خان رند یونیورسٹی سبی نے پہلی پوزیشن حاصل کر کے میدان مار لیاجبکہ یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز ژوب کیمپس نے بہترین کارکردگی پیش کر کے رنر اپ کا اعزاز اپنے نام کیا۔ ان جامعات کے طلبہ کی کاروباری سوچ اور جدید ماڈلز کو ججز اور شرکا نے بے حد سراہا۔
پروگرام کے دوسرے روز منعقدہ پروقار اختتامی تقریب میں مہمان خصوصی اور مشیر وزیر اعلی مینا مجید بلوچ نے کامیاب ٹیموں اور انفرادی شرکا میں لاکھوں روپے کے نقد انعامات، ٹرافیاں اور ایوارڈز تقسیم کیے۔ اس موقع پر کامیاب نوجوانوں کو ٹرافیاں دیتے ہوئے مینا مجید بلوچ نے کہا کہ ہمیں دل سے فخر محسوس ہو رہا ہے کہ ہمارے بلوچستان کی یوتھ اتنی باصلاحیت اور ٹیلنٹڈ ہے۔
ہماری یہ نوجوان نسل ہی دراصل دنیا میں ہماری اصل پہچان ہے اور یہی صوبے اور ملک کی سب سے بڑی ضرورت ہیں۔ٹیم کیٹیگری فرسٹ پرائز جیتنے والی میر چاکر خان رند یونیورسٹی سبی کی ٹیم کو 3 لاکھ روپے نقد اور خوبصورت ٹرافی دی گئی جبکہ رنر اپ آنے والی بوئٹمز ژوب کیمپس کی ٹیم کو 2 لاکھ روپے نقد اور رنر اپ ٹرافی سے نوازا گیا۔ انفرادی مقابلوں میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے ونرز کو 60 ہزار روپے اور رنر اپ شرکا کو 40 ہزار روپے کے نقد انعامات دیے گئے۔اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دیگر مقررین کا بھی کہنا تھا کہ یہ مقابلہ بلوچستان میں انٹرپرینیورشپ (کاروبار) کے رجحان کو فروغ دینے کے لیے ایک انقلابی قدم ثابت ہوگا اور حکومت آئندہ بھی ایسے معاشی پروگرامز جاری رکھے گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.