بھارت میں 20 کروڑ مسلمانوں کی نسل کشی کا خطرہ

0 150

بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیموں کے نمائندوں نے بھارت میں 20 کروڑ مسلمانوں کی منظم طریقے سے نسل کشی کے خطرے کا اظہار کر دیا۔

واشنگٹن میں انڈین امریکن مسلم کونسل کے زیر اہتمام  نسل کشی اور بھارتی مسلمانوں کے دس مراحل  کے عنوان سے مباحثے کا انعقاد کیا گیا جس میں نامور بین الاقوامی انسانی حقوق ماہرین نے شرکت کی۔ جینوسائیڈ واچ کے سربراہ ڈاکٹر گریگری سٹینٹن نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی جاری ہے اور بی جے پی حکومت کی نگرانی میں کروڑوں مسلمانوں کی  نسل کشی  کا خطرہ ہے، کشمیر اور آسام میں مسلمانوں پر ظلم قتل عام سے پہلے کا مرحلہ تھا جبکہ بابری مسجد کی شہادت اور اس جگہ پر مندر کی تعمیر بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

انسانی حقوق کی نمائندہ ٹینا رمریز نے کہا کہ ہندوستانی مسلمان مستقل خوف اور عدم تحفظ کا شکار ہیں، گائے کا گوشت فروخت کرنے کے جھوٹے الزام لگا کر مسلمانوں پر تشدد کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ نام نہاد جمہوریت کا دعویدار بھارت اپنی مجموعی آبادی کے 14 فیصد مسلمانوں کو دبا رہا ہے اور انہیں انسانی اور آئینی حقوق سے محروم کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب جینو سائیڈ واچ کے سربراہ کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان، پہلے ہی سے مختلف فورمز پر اس تمام صورتحال کی نشاندہی کرتے ہوئے اپنی تشویش کا اظہار کر تا چلا آ رہا ہے، مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک صرف وادی تک محدود نہیں، یہ پورے ہندوستان کے مسلمانوں کے ساتھ روا رکھا جا رہا ہے، ہم نے بھارت کی جانب سے دہشت گردی کی کاروائیوں میں ملوث ہونے اور دہشتگرد گروہوں کی پشت پناہی کے ناقابل ترید شواہد بھی دکھائے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.