دنیا بھر میں آج موسیقی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، ان دن کو منانے کا مقصد دنیا بھر کے لوگوں کو موسیقی کے ذریعے امن، محبت اور بھائی چارے کی زنجیر میں باندھنے کی ایک خوبصورت کوشش ہے۔
ورلڈ میوزک ڈے کا آغاز 29 سال پہلے فرانس کے شہر پیرس سے ہوا، موسیقی کی روایت برصغیر میں بھی بہت پرانی ہے اورکلاسیکل موسیقی کے علاوہ غزل، گیت، فوک اور پلے بیک سنگنگ وغیرہ بھی یہاں کے لوگوں میں انتہائی مقبول ہے۔ موسیقی روح کی غذا بھی سمجھی جاتی ہے، امیر خسرو، تان سین، نصرت فتح علی خان، نازیہ حسن سمیت متعدد گلوکاروں نے فن موسیقی کو بام عروج تک پہنچایا۔
برِصغیر میں موسیقی نے مغلیہ دور سے بہت پہلے عروج حاصل کر لیا تھا، امیرخسرو کے بعد تان سین اور بیجوباورا، کے ایل سہگل اور مختار بیگم سے ماضی قریب تک سینکڑوں کلاسیک گائیک اس فن کے امین بنے۔ قیام پاکستان کے بعد موسیقی کے شعبہ میں نصرت فتح علی خان، نور جہاں، مہدی حسن، فریدہ خانم، اقبال بانو، خورشید بیگم، غلام علی، پرویز مہدی، احمد رشدی اور مسعود رانا جیسے ناموں نے لازوال گیت تخلیق کیے اور گائے۔