ترقیاتی عمل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائےگی،وزیراعلیٰ بلوچستان

کوئٹہ(خ ن )وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے منگل کو سریاب میں تین ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا جو کوئٹہ ڈویلپمنٹ پروجیکٹ کے تحت مکمل کیے گئے اس موقع پر پروجیکٹ ڈائریکٹر رفیق بلوچ نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کو مکمل کئے گئے منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ کوئٹہ شہر کی خوبصورتی کے لیے حکومت پرعزم ہے اور اس مقصد کے حصول میں ہر شہری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا انہوں نے کہا کہ حکومت سڑکوں اور دیواروں کو خوبصورت بناتی ہے لیکن بعض افراد وال چاکنگ کے ذریعے انہیں خراب کر دیتے ہیں جس کے خلاف اب قانون حرکت میں آئے گا اور وال چاکنگ میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے گی وزیر اعلیٰ نے سریاب کے عوام کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں کا خیال رکھنے کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ ائیرپورٹ روڈ کو بھی خوبصورت بنایا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ اربن سینٹر ڈویلپمنٹ کے منصوبوں پر عملدرآمد ایک مشکل کام ہوتا ہے تاہم پروجیکٹ ڈائریکٹر اور ان کی ٹیم نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا جس پر انہیں مبارکباد دیتے ہیں وزیر اعلیٰ نے کمشنر کوئٹہ ڈویڑن کی کاوشوں کو بھی سراہا تقریب کے اختتام پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت نے آئندہ بجٹ کی تیاری شروع کر دی ہے جس میں کوئٹہ کی ترقی کو ترجیح دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ پروجیکٹ میں تاخیر کی بنیادی وجہ ٹھیکہ داروں کی سست روی تھی اور اب جو بھی کمپنی یا ٹھیکہ دار طے شدہ ٹائم لائن یا معیار پر پورا نہیں اترے گا اسے بلیک لسٹ کر دیا جائے گا اس ضمن میں صوبائی حکام کو احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کو بہتر بنانے کا وقت آ گیا ہے اور ترقیاتی عمل میں مزید کوئی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے بلوچستان میں شاہراہوں کی تعمیر کے لیے فنڈز مختص کرنے پر اپنی اور صوبائی کابینہ کے اراکین کی جانب سے وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ بلوچستان کے عوام اس عمل پر پاکستان کے ہر فرد کے شکر گزار ہیں کوئٹہ کراچی شاہراہ جس کو خونی سڑک کہا جاتا تھا اس کو ڈبل کیرج بنایا جائے گا وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ مانگی ڈیم پر کام جاری ہے اور اس کی تکمیل سے کوئٹہ میں پانی کا دیرینہ مسئلہ حل ہو جائے گا بی وائی سی کی رہنمائ سمی دین سے متعلق پوچھے گئے سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سمی دین نے پرچم جلانے کی تردید کی ہے جو مثبت بات ہے تاہم یہ بات طے ہے کہ پرچم کو آگ بی وائی سی کی کسی کارکن نے ہی لگائی وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ ان کا مقصد کسی فرد کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ بی وائی سی کے مقاصد کو بے نقاب کرنا تھا تاکہ ان لوگوں کو آگاہ کیا جا سکے جو بی وائی سی کو پرامن تنظیم سمجھتے ہیں

Leave A Reply

Your email address will not be published.