زراعت،معیشت اور دیگرشعبوں میں خواتین کی خدمات قابل ستائش ہیں،رومینہ خورشید عالم

وزیر اعظم کی کوآرڈینیٹر برائے موسمیاتی تبدیلی رومینہ خورشید عالم نے موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے خواتین کو بااختیار بنانے کوضروری قرار دیتے ہوئے زراعت، معیشت اور دیگر شعبوں میں ان کی خدمات کو سراہا ہے۔ انہوں نے یہ بات سماجی تنظیم “پودا” کی 17 ویں سالانہ دیہی خواتین قیادت تربیتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
لوک ورثہ کے اشتراک سے منعقدہ اس کانفرنس کا مقصد دیہی خواتین کے مسائل کو اجاگر کرنا ، انہیں حکومتی پالیسیوں اور خدمات سے مستفید ہونے کے قابل بنانا تھا۔ کانفرنس کے پہلے دن ملک بھر کے 132 اضلاع سے تعلق رکھنے والی خواتین نے دیہی خواتین کو “کسان” تسلیم کرنے کے حق میں آواز بلند کی۔

وزیر اعظم کی کوآرڈینیٹر برائے موسمیاتی تبدیلی رومینہ خورشید عالم نے خواتین کو بااختیار بنانے کو موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری قرار دیا اور زراعت، معیشت اور دیگر شعبوں میں ان کی اہم خدمات کو سراہا۔

انہوں نے تمام صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ خواتین کی بااختیاری اور صحت کی دیکھ بھال خاص طور پر دیہی علاقوں کی خواتین کے حقوق کو ترجیح دیں۔ رومینہ خورشید عالم نے وفاقی حکومت کے بلوچستان میں “شی پاور” پروگرام کے آغاز پر روشنی ڈالی جو چینی حکومت کی شراکت میں خواتین کی صحت کی دیکھ بھال کیلئے کام کر رہا ہے۔ اس موقع پرپودا کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ثمینہ نذیر نے پاکستان کی زراعت میں خواتین کے کلیدی کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ خواتین ملک کی زرعی افرادی قوت کا تقریبا 60 فیصد حصہ ہیں۔
انہوں نے تحقیقی اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر دیہی خواتین کو مردوں کے برابر وسائل تک رسائی حاصل ہو تو زرعی پیداوار میں 20-30 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے جس سے غذائی تحفظ میں بہتری اور غربت میں کمی ہو سکتی ہے۔ ڈائریکٹر جنرل آبادی بہبود، پنجاب ثمن رائے نے پودا کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کانفرنس ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے جہاں خواتین اپنے تجربات بانٹ سکتی ہیں، قیادت کو مضبوط بنا سکتی ہیں اور زراعت کے شعبے میں اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کر سکتی ہیں۔
انہوں نے زیتون کی پیداوار میں تربیت کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے پودا کے کام کو بھی تسلیم کیا۔دیگر نمایاں مقررین میں وزیر برائے خواتین ترقی بلوچستان راحیلا حمید درانی، ایم پی اے عظمی کاردار اور پارلیمانی سیکرٹری برائے قومی ورثہ و ثقافتی امور فرح ناز اکبرشامل تھیں۔دن کے دوسرے سیشن جس کا عنوان “پائیدار اختراعات، ڈیجیٹل کاروبار اور موسمیاتی عمل کے ذریعے دیہی خواتین کو بااختیار بنانا” تھا ، میں ضمیر اختر سکول کے طلباء نے تعلیمی تھیٹر پرفارمنس پیش کی جس میں موسمیاتی تبدیلیوں کے ماحول پر پڑنے والے اثرات اور پائیدار طرز عمل کی ضرورت کو اجاگر کیا گیا۔
پینل کے شرکاء نے موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث دیہی خواتین کو درپیش خطرات پر تبادلہ خیال کیا، خاص طور پر ان کی وسائل تک رسائی، تکنیکی معلومات اور فیصلہ سازی کی صلاحیت میں کمی کو اجاگر کیا۔ سیشن میں اس بات پر زور دیا گیا کہ موسمیاتی لحاظ سے پائیدار طریقوں کو اپنانا اور خواتین کو ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل خواندگی کے ذریعے بااختیار بنانا ان کے کاروباری مواقع کو بڑھا سکتا ہے۔دن کا اختتام تمام صوبوں کی خواتین کی لوک موسیقی اور رقص کی شاندار پرفارمنس کے ساتھ ہوا جس نے پاکستان کی ثقافت کو اجاگر کیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.