نیب کو ختم کرنے کا اختیار پارلیمنٹ کو حاصل ہے، اداروں کی بہتری کیلئے اپوزیشن سمیت تمام اراکین اپنی سفارشات پیش کریں،اعظم نذیر تارڑ
نیب ایک بدنام ادارہ ہے اور ہماری حکومت اس نیب کو ختم کرے اس نے ملک کو کچھ نہیں دیا،نیب کے گندے قوانین کس نے بنائے؟ سینیٹرسعدیہ عباسی،سینیٹر ہمایوں
اسلام آباد: ایوان بالا کو وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے بتایا ہے کہ نیب کو ختم کرنے کا اختیار پارلیمنٹ کو حاصل ہے حکومت کسی بھی آئینی ادارے کو ختم نہیں کرسکتی ہے اداروں کی بہتری کیلئے اپوزیشن سمیت تمام اراکین اپنی سفارشات پیش کریں۔
منگل کے روز سینیٹ اجلاس کے دوران وفقہ سوالات کے دوران سینیٹر بہرہ مند تنگی نے ضمنی سوال کرتے ہوئے کہاکہ جب ملک میں کرپشن میں کمی کی بجائے اضافہ ہوا ہے تو نیب کو بند کیوں نہیں کیا جارہا ہے جس پر وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ کسی بھی قانون یا ادارے کو ختم کرنے کا اختیار پارلیمنٹ ہائوس کو حاصل ہے انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ نے بھی نیب کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے ہیں نیب کو ختم کرنا حکومت کے اختیار میں نہیں ہے اس ایوان میں نیب کو ختم کرنے کے حوالے سے بل لیکر آئیںانہوں نے کہاکہ تشہیر سے زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے وزارت تمام اداروں کو یہ ہدایات جاری کرے گی کہ وہ تشہیر کی بجائے کام پر توجہ دیں سینیٹرسعدیہ عباسی نے کہاکہ نیب ایک بدنام ادارہ ہے اور ہماری حکومت اس نیب کو ختم کرے اس نے ملک کو کچھ نہیں دیا اور اس ملک میں بیوروکریٹس اور دیگر اداروں کو کام کرنے سے روکا ہے انہوں نے کہاکہ نیب کا ادارہ کرپشن روکنے میں ناکام ہوچکا ہے اور خود کرپٹ ادارہ بن چکا ہے آج ہر ادارے میں کرپشن زوروں پر ہے میری حکومت سے گزارش ہے کہ اس ادارے کو ختم کیا جائے جس پر وفاقی وزیر قانون نے کہاکہ پارلیمنٹ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی ادارے کو ختم کرے تاہم حکومت کے پاس یہ اختیار نہیں ہے انہوں نے کہاکہ اس ادارے کے ہاتھوں انسانی حقوق کی شدید پامالی ہورہی ہے ادارے کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے سینیٹر بہرہ مند تنگی کے ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر قانون نے کہاکہ یہ نظام آئین پاکستان کے طابع چلتا ہے سابقہ حکومت نے بہت زیادہ قوانین عجلت میں منظور کرائے ہیں اور اس پر بحث نہیں ہوئی ہے اگر کوئی رکن بل لیکر آتا ہے تو اس پر بحث کرکے قوانین کی اصلاح کی جائے گی سینیٹر ہمایون نے کہاکہ نیب کے گندے قوانین کس نے بنائے ہیں جس پر وزیر قانون نے کہاکہ نیب سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں بنایا گیا تاہم اس کے ثمرات نہیں آسکے ہیں انہوں نے کہاکہ پاکستان کی پارلیمان نے اپنے خلاف جس طرح کی قانون سازی کی ہے اس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی ہے انہوں نے کہاکہ ہمیں قانون کی بہتری کیلئے اقدامات کرنے چاہیے اور اس میں اپوزیشن بھی ہمارا ساتھ دے سینیٹر دنیش کمار کے ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر قانون نے کہاکہ ہمیں روئیے بدلنے کی ضرورت ہے کوئی بھی قانون غلط نہیں ہوتا اس کا استعمال غلط ہوتا ہے ہمیں آئین پر عمل درآمد کرنا چاہیے ،سینیٹر کامران مرتضیٰ نے ضمنی سوال کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے توانائی ہاشم نوتیزئی نے کہاکہ بلوچستان کیلئے 780میگا واٹ بجلی مختص ہے تاہم وہ 680میگا واٹ بجلی لے رہے ہیں انہوں نے کہاکہ بجلی لوڈ شیڈنگ کم کرنے کی کوشش کریں گے سینیٹر دنیش کمار نے کہاکہ بلوچستان کے علاقے دشت بل نگور کے عوام گذشتہ دو سالوں سے بجلی سے محروم ہیں اور یہ محض بجلی کے کھمبے گرنے کی وجہ سے ہے جس پر وزیر مملکت نے کہاکہ کوشش کر رہے ہیں کہ ان علاقوں کو قومی گرڈ سٹیشن سے منسلک کیا جائے سینیٹر کیشو بائی نے کہاکہ سندھ میں بھی بدترین لوڈشیڈنگ ہورہی ہے جس پر وزیر مملکت نے کہاکہ ٹرانسمشن لائن میں تکنیکی خرابیوں کو دور کر رہے ہیں اور بجلی لوڈشیڈنگ کے دورانئے کو کم سے کم کر رہے ہیں سینیٹر شہادت اعوان کے ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر انسانی حقوق ریاض حسین پیرزادہ نے کہاکہ چائلڈ پروٹیکشن سنٹرز میں بچوں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق سہولیات فراہم کی جارہی ہیں انہوں نے کہاکہ اس حوالے سے تمام ذمہ داریاں پوری کریں گے۔۔۔۔۔اعجاز خان#/s#