رواں سال جنوری سے ستمبر تک چین پاکستان ایگریکلچر ٹریڈ کا حجم 860 ملین ڈالر پر پہنچ گیا ، چینی سفیر
گزشتہ سال کووڈ19 کے باوجود دو طرفہ ایگریکلچر ٹریڈ کا حجم 717 ملین ڈالر کے ساتھ بلند پر رہا،سی پیک اعلی معیار کی ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، اس میں صنعتی اور زرعی تعاون پر توجہ مرکوز ہے،حالیہ برسوں میں، چین پاکستان کے درمیان ایگریکلچر ٹرید تیزی سے بڑھ رہی ہے، پاکستان سے چین کو پیاز کی برآمد کے معاہدے سے پاکستانی پیاز پروڈیوسر چینی مارکیٹ تک رسائی حاصل کر سکیں گے، چینی سفیر نونگ رونگ
مجھے یقین ہے کہ مزید پاکستانی اعلی معیار کی زرعی مصنوعات بڑی مقدار میں چینی منڈیوں تک رسائی حاصل کریں گی ،ہماری ایگریکلچر کمیونٹی چینی لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے معیارات کو حاصل کر سکیں گے، وفاقی وزیر فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ سید فخر امام ،کا تقریب سے خطاب
اسلام آباد: پاکستان میں چین کے سفیر نونگ رونگ نے کہا ہے کہ رواں سال جنوری سے ستمبر تک چین پاکستان ایگریکلچر ٹریڈ کا حجم 860 ملین ڈالر پر پہنچ گیا ، گزشتہ سال کووڈ19 کے باوجود دو طرفہ ایگریکلچر ٹریڈ کا حجم 717 ملین ڈالر کے ساتھ بلند پر رہا،سی پیک اعلی معیار کی ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، اس میں صنعتی اور زرعی تعاون پر توجہ مرکوز ہے،حالیہ برسوں میں، چین پاکستان کے درمیان ایگریکلچر ٹرید تیزی سے بڑھ رہی ہے۔گوادر پرو کے مطابق چین اور پاکستان کے درمیان پاکستان سے چین کو پیاز کی برآمد کے لیے معائنہ اور قرنطینہ کی ضروریات کے مسودے پر دستخط ہو گئے۔ معاہدے سے پاکستانی پیاز پروڈیوسر چینی مارکیٹ تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔ گوادر پروکے مطابق اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران چین کے سفیر نونگ رونگ اور پاکستان کے وفاقی وزیر برائے فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ سید فخر امام نے معاہدے پر دستخط کیے۔ اس موقع پر چین کے سفیرنونگ رونگ نے کہا آج ہم نے پیاز کے حوالے سے باضابطہ طور پر مسودے پر دستخط کیے ہیں اور ہم اب بھی پاکستانی برآمد کنندگان کی مرچ، آلو اور دیگر زرعی مصنوعات کے معائنہ اور قرنطینہ میں مدد کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ وہ چینی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ مقامی کسانوں کووزارت فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کی طرف سے مدد اور رہنمائی فراہم کی جا سکتی ہے، انہوں نے مزید کہا چینی سفارت خانہ پیاز کی برآمد میں مدد کے لیے بھی مدد فراہم کرتا ہے۔ سفیر نونگ رونگ نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک )اعلی معیار کی ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے جس کی توجہ “صنعتی اور زرعی تعاون” پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ “چین اور پاکستان زراعت کے شعبے جیسے شجرکاری، فوڈ پروسس، کولڈ چین اسٹوریج اور کنٹریکٹ فارمنگ میں انتہائی معاون ہیں۔ انہوںنے کہا حالیہ برسوں میں، چین پاکستان کے درمیان ایگریکلچر ٹرید