استامحمد۔ پندرہ سے بیس روز قبل بننے والا تحصیل روڈ گزشتہ رات کی بارش کے بعد جھیل کا منطر پیش کر رہا ہے

استامحمد۔رپورٹ عبداللہ مگسی۔
میونسپل کارپوریشن استامحمد میں ہونے والے ناقص اور غیر معیاری ترقیاتی کام پندرہ سے بیس روز قبل ٹف ٹائل کے بنے ہوئے تحصیل روڈ اور تمام چھوٹی گلیاں گزشتہ رات ہونے والی بارش کے بعد جھیل کامنظر پیش کر رہے ہیں۔ جبکہ آدھے پونے گھنٹے کی بارش اور سیوریج کا پانی جان کالونی۔ حق باہو کالونی کے گھروں میں داخل ہوگیا پوری رات ان گھر والوں کو شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا ۔ پندرہ سے بیس روز قبل بننے والے غیر معیاری اور ناقص تحصیل روڈ کے بارے میں اسسٹنٹ کمشنر استامحمد کو آگاہ کیا گیا تھا کہ اس روڈ کا سیوریج نالا اوپر ہے ٹف ٹائل نیچے کرکے لگا جا رہے ہیں اس کا نوٹس لیا جائے مگر ڈسٹرکٹ اور تحصیل انتظامیہ کی آنکھوں کے سامنے غیر معیاری اور ناقص کام کیا گیا۔ تحصیل روڈ کے لیے آنے والا ڈیڑھ کروڑ روپیہ پندرہ سے بیس روز کے بعد بارش کی نظر ہو گیا ہے استامحمد کی عوام ۔ تاجر برادری نے وزیر اعلی بلوچستان۔ چیف سیکریٹری بلوچستان ۔صوبائی وزیر لوکل گورنمنٹ۔ سیکریٹری لوکل گورنمنٹ اور نیب بلوچستان سے استامحمد کے لیئے آنے والے کروڑوں روپے کی فنڈز کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کامطالبہ کیا ہے۔ گزشتہ رات آدھے سے پونے گھنٹے کی بارش نے کروڑوں روپے کی فنڈز کو بارش کی نظر ہو گیاہے اس میں ملوث تمام افراد کا فوری طور پر غیر جانبدارانہ انکوائری کرائی جائے گزشتہ رات ہونے والی معمولی بارش کے بعد ٹف ٹائل سے بنا ہوا تحصیل روڈ کا سیوریج نالا اوپر اور ٹف ٹائل روڈ سے نیچے بنایا گیاہے ۔جس کی وجہ سے عوامی سہولیات کے لیئے آنے والے کروڑوں روپے کے فنڈز کو بے دردی سے ضائع کیا جارہا ہے مین تحصیل روڈ سمیت دیگر گلیوں پر بارش کا پانی جمع ہونے سے جھیل کا منظر پیش کر رہےہیں

Leave A Reply

Your email address will not be published.