پشاور:معاشرے میں عدم برداشت، بے روزگاری، گھریلو جھگڑوں کے باعث خیبر پختونخوا میں رواں سال کے دوران طلاق اور خلع کی شرح میں خوفناک حد تک اضافہ ہونے لگا۔رواں سال ایک لاکھ خواتین نے خلع کے لیے عدالتوں سے رجوع کیا اور 10 ہزار سے زائد خواتین کو خلع کی ڈگریاں جاری کردی گئیں۔خلغ ، طلاق کیسز دائر کرنے پر سابق بیویوں کو عدالتوںکے باہر اور اندرقتل کیاگیا خلع ، طلاق کے کیسز میں سب سے زیادہ خواتین قتل کے کیسز پشاور ، چارسدہ ، مردان ، نوشہرہ ، صوابی میں ہو ئے ۔ خواتین پر تشدد، عدم برداشت نے میاں بیوی جیسے مقدس رشتے میں دراڑیں ڈال دیں۔ معمولی گھریلو لڑائی جھگڑوں اور تلخ کلامی پر خلع لینے کی شرح میں اضافہ ہونے لگا۔پشاور سمیت صوبے بھر کی عدالتوں میں طلاق اور خلع کے کیسز کے انبار لگ گئے۔ 2021 میںپشاور سمیت صوبے بھر فیملی کورٹس سے ایک لاکھ سے زائد خواتین نے خلع کی ڈگریوں کے لیے رجوع کیا جن میں سے 10 ہزار 2 سو خواتین کو خلع کی ڈگریاں جاری کردی گئیں قانونی ماہرین کے مطابق خلع کے کیسز میں روز بروز اضافہ کی بڑی وجہ ساس بہو کی لڑائی، پسند کی شادی،عدم برداشت جیسے عوامل ہیں۔ #/s#