امریکی عدالت نے 12 نومبر سے ٹک ٹاک پر پابندی کا حکم معطل کردیا

امریکی عدالت نے حکومت کی جانب سے آئندہ ماہ 12 نومبر کو چین کی شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک پر پابندی کے احکامات کو معطل کردیا۔

اس سے قبل عدالت نے امریکی حکومت کی جانب سے 27 ستمبر سے امریکا میں ٹک ٹاک کی ڈاؤن لوڈنگ پر پابندی کا حکم بھی معطل کردیا تھا۔

امریکا کے محکمہ کامرس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایات کے بعد ستمبر کے وسط میں ٹک ٹاک کی ڈاؤن لوڈنگ پر 27 ستمبر سے پابندی جب کہ 12 نومبر سے اس کی امریکا میں مکمل پابندی کے احکامات جاری کیے تھے۔

تاہم واشنگٹن کی عدالت نے پہلے 28 ستمبر کو ٹک ٹاک کی ڈاؤن لوڈنگ کے احکامات کو معطل کیا تھا اور اب پنسلوانیا کی عدالت نے چینی ایپلی کیشن کی بندش سے متعلق بھی امریکی حکومت کے احکامات معطل کردیے۔

خبر رساں ادارے نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ امریکی ریاست پنسلوانیا کی ضلع عدالت نے کامرس ڈپارٹمنٹ کے 12 نومبر کو ٹک ٹاک پر پابندی کے احکامات کو معطل کردیا۔

عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں محکمہ کامرس کے ٹک ٹاک پر پابندی سے متعلق اٹھائے جانے والے ہر طرح کے احکامات کو معطل کردیا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ٹک ٹاک پر پابندی سے امریکا کے 10 کروڑ سے زائد صارفین متاثر ہوں گے، جو مذکورہ ایپ کو یومیہ بنیادوں پر استعمال کرتے ہیں۔

عدالتی فیصلے پر فوری طور پر محکمہ کامرس اور امریکی حکومت نے کوئی رد عمل نہیں دیا۔

ٹک ٹاک کی امریکا میں پابندی سے متعلق کیس کا حتمی فیصلہ بھی امریکی انتخابات کے بعد سنائے جانے کا امکان ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.