پاکستانی ماہرین نے پھلوں کو کھولے بغیر مٹھاس بتانے والے نظام تیار کرلیا
کراچی: پاکستانی سائنسدانوں کی ٹیم نے مصنوعی ذہانت (آرٹفیشل انٹیلیجنس یا اے آئی) اور بصری خواص کی بنا پر نارنگی اور کینو جیسے سِٹرس پھلوں کو کھولے بغیر ان کی مٹھاس معلوم کرنے کا ایک طریقہ وضع کیا ہے۔ یہ نظام 80 فیصد درستگی کے ساتھ ان مٹھاس کی پیشگوئی کرسکتا ہے۔
انفراریڈ روشنی سے پھلوں کا تعین
لیکن پہلے یہ جان لیجئے کہ طیف نگاری (اسپیکٹرواسکوپی) کیا ہے اور اس کی کیا اہمیت ہے؟
ہرجاندار اور بے جان شے روشنی جذب کرتی، خارج کرتی ہے یا منعکس کرتی ہے۔ اس روشنی سے کسی شے کا احوال معلوم کرنا طیف نگاری ہے جو اب بے حد کارآمد عمل بن چکا ہے۔ لیکن ٹھہریئے کہ ہماری آنکھ طیف یا ریڈی ایشن (اشعاع) کا بہت ہی معمولی حصہ دیکھ سکتی ہے جسے مرئی روشنی یا وزیبل لائٹ کہا جاتا ہے۔ جبکہ ایکس رے، انفراریڈ اور الٹراوائلٹ وغیرہ جیسے گوشے یکساں طورپراہمیت رکھتی ہیں لیکن ہم انہیں نہیں دیکھ سکتے۔ روزمرہ زندگی میں اسپیکٹرواسکوپی ہمیں دماغ کی معمولی سی رسولی سے آگاہ کرتی ہے تو ساتھ میں لاکھوں نوری سال کے فاصلے پر موجود کسی کہکشاں کا احوال بھی بتاتی ہے۔
اگرچہ پھلوں کا معیار معلوم کرنے میں طیف نگاری کا استعمال برسوں سے جاری ہے، تاہم پاکستانی سائنسدانوں نے اس سے مقامی نارنگیوں کی مٹھاس معلوم کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ دوم اس طریقے میں براہِ راست مٹھاس معلوم کرنے میں کامیابی ملی ہے جو ایک اہم پیشرفت بھی ہے۔