پی ایس ایل میں جوش و جذبے کی نئی داستان رقم

کراچی  :  پی ایس ایل سیزن پانچ میں مقامی اور غیر ملکی اسٹار کھلاڑیوں کے جارحانہ کھیل ، عزم و حوصلے اور جوش وجذبے نے نئی تاریخ رقم کردی۔ کراچی کنگز اور لاہور قلندرز کے درمیان فائنل کے موقع پر شائقین اور سابق کھلاڑیوں کی دلچسپی عروج پر رہی جبکہ سوشل میڈیا پر بھی دونوں ٹیموں کے مداحوں نے دلچسپ اور طنزیہ تبصروں کا تبادلہ کیا ۔کو رونا وائرس کے باعث شائقین کو نیشنل اسٹیڈیم میں جا کر ٹائٹل میچ سے لطف اندوز ہونے کا موقع نہیں مل سکا تاہم کرکٹ کے مداح پسندیدہ ٹیمو ں کی حوصلہ افزائی کیلئے ٹیلی ویژن اسکرینوں کے سامنے بیٹھ گئے ۔ فائنل سے قبل کمنٹری پینل میں شامل انگلش کمنٹیٹر ڈومینک کارک، جونٹی رہوڈز، رمیز راجہ، وقار یونس، فخرعالم ، پریزینٹرثناء میر ، زینب عباس اورعروج ممتاز نے روایتی لباس پہن کر چاروں صوبوں کی ثقافت اجاگر کی۔ وسیم اکرم، شاہد آفریدی، شعیب ملک اور دیگر سابق کھلاڑیوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغامات سے دونوں ٹیموں کی کامیابی کیلئے ہمت بندھائی ۔ بعد ازاں فائنل میچ کے اختتام پر فاتح ٹیم کراچی کنگز کے کپتان عماد وسیم نے کہا کہ بالرز نے پلان کے مطابق بالنگ کی اور انہیں اپنی ٹیم پر فخر ہے ۔ یہ جانتے تھے کہ بابر اعظم اچھی بیٹنگ کریں گے تو ہدف کا تعاقب آسان ہو جائے گا ، میچ کے دوران ارشد اقبال نے بھی اہم کردار نبھایا۔ اس جیت میں ڈین جونز کو بھی کریڈٹ دینا ہوگا جو ٹیم کی بہتری کیلئے سوچتے تھے جبکہ وسیم اکرم نے بھی کھلاڑیوں کاحوصلہ بڑھایا ۔ اس موقع پر لاہور قلندرز کے کپتان سہیل اختر کا کہنا تھا کہ وکٹ سست تھی مگر اپنی اننگز میں بیس رنز کم بنائے ۔ وکٹیں بھی مسلسل گرتی رہیں جس سے ٹیم کو نقصان پہنچا۔ بدقسمتی سے فائنل نہیں جیت سکے جس کا دکھ ہے تاہم اپنی ٹیم کی مجموعی کارکردگی سے مطمئن ہوں جس نے پورے ٹورنامنٹ میں بہترین کرکٹ کھیلی۔ میچوں میں سینئر کھلاڑیوں کا تعاون حاصل رہا جبکہ محمد حفیظ ،بین ڈنک اور فخر زمان کی کارکردگی شاندار تھی ۔ فائنل میچ کے بعد نیشنل اسٹیڈیم میں آتش بازی کا شاندار مظاہرہ کیا گیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.