کوئٹہ۔ بلوچستان حکومت کا صحت کے شعبے میں انقلابی اقدام ،18لاکھ بیس ہزار خاندانوں کیلئے ہیلتھ کار ڈ کا اجراء آئندہ دو ماہ میں کرنے کا فیصلہ ،ہر خاندان کیلئے 10لاکھ روپے کی انشورنس پالیسی ہوگی، بلوچستان کے شہریوں کا شناختی کارڈ ہی ان کا ہیلتھ کارڈ ہوگا،کوئٹہ سمیت ملک کے پانچ سو بڑے ہسپتالوں میں تمام بلوچستانیوں کو علاج کی سہولیات میسر ہونگی ،ہیلتھ انشورنس میں وزراء ،نواب ،سردار، اعلیٰ سرکاری افسران سے لیکر عام مزدور اور دہکان تک کیلئے پالیسی ایک ہی رکھی گئی ہے یہ بات سیکرٹری ہیلتھ بلوچستان نورالحق بلوچ نے صحافیوں کے ایک گروپ سے بات چیت کرتے ہوئے کہی انہوں نے کہا کہ ہیلتھ پالیسی کارڈ کے ذریعے بلوچستان کے ہر شہری کو 10لاکھ روپے تک کی علاج کی سہولیات ہوگی ملک کے کسی بھی سرکاری وپرائیویٹ بڑے ہسپتال میں شناختی کارڈ دکھا کرعلاج کرایا جاسکے گا ،حکومت بلوچستان نے ہیلتھ انشونس کارڈ کے کئے مالی سال 2021-22کے بجٹ میں 5.8بلین روپے مختص کے ہیں انہوں نے بتایا کہ یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ بی ایم سی سمیت تمام سرکاری ہسپتالوں میں پرائیویٹ سیکٹر کیلئے الگ سے بلاکس بنائے جارہے ہیں جہاں پر ڈاکٹرز شام کے وقت بھی اپنی پرائیویٹ پریکٹس کرسکیں گے انہوں نے بتایا کہ شیخ زاید ہسپتال میں ستمبر کے پہلے ہفتے میں نیورو ٹیسٹ کی سہولیات شروع کررہے ہیں اسے قبل بلوچستان کے عوام یہ ٹیسٹ لاہور اور کراچی میں 18سے 20ہزارمیں کراتے تھے اب یہ ٹیسٹ شیخ زاید ہسپتال میں صرف 5سو روپے میں ہونگے اس کے علاوہ انڈس فاونڈیشن کے تعاون سے بلوچستان میں بچوں کے کینسر کے علاج کا ہسپتال کوئٹہ میں بنایا جارہا ہے اس کے علاؤہ کارڈک انسٹیٹیوٹ اکتوبر میں کام شروع کردیگا اس انسٹیٹیوٹ میں پاکستان سے بہترین کارڈیالوجیسٹ کوئٹہ میں ہی مریضوں کا علاج کرینگے انہوں نے بتایاکہ موجودہ حکومت نے پرائیویٹ اور سرکاری ہسپتالوں کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے ہیلتھ کیئر کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کیلئے قانون سازی کرلی گئی ہے یہ کمیشن تمام پرائیویٹ اور سرکاری ہسپتالوں میں علاج کے معیارسمیت عوامی شکایات کا بھی ازالہ کریگااو ر جو ہسپتال معیار پر پورا نہیں اترے گا اسے بھاری جرمانے کئے جائینگے انہوں نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی عدم فراہمی اور ایم ایس ڈی میں بڑے پیمانے پر کرپشن کی شکایات کے پیش نظر فیصلہ کیا گیا ہے کہ اب تمام سرکاری ہسپتال ادویات خود خریدینگے ادویات کی خریداری میں ایم ایس ڈی کے کردار کو ختم کیا جارہاہے ادویات کی قیمتیں کمپنیوں کے ساتھ محکمہ صحت طے کریگااس کے علاوہ کمپنیوں کی جانب سے فراہم کردہ ادویات کی پیکنگ بھی مختلف ہوگی تاکہ اوپن مارکیٹ میں یہ چوری کرکے فروخت نہ ہوسکے۔اس بات کو بھی یقینی بنایا جائیگا کہ جس مریض کو یہ ادویات دی گئی ہے اس کے مکمل کوائف درج ہوں انہوں نے بتایاکہ اس سسٹم کا مقصد یہ ہے کہ ادویات کا چوری کو روکا جائے اور غریب اور نادار مریضوں تک یہ ادویات پہنچ سکیں ۔