وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیر صدارت محمکہ بلڈنگ، پرائمری ہیلتھ، اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر، ہائیر ایجوکیشن اور سیکنڈری ایجوکیشن کی جاری اور نئی ترقیاتی اسکیمات پر پیش رفت سے متعلق اجلاس۔اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان، سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر، سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ، سیکرٹری سیکنڈری ایجوکیشن، سیکرٹری اطلاعات، سیکرٹری امپلیمنٹیشن منصوبہ بندی و ترقیات اور ایڈیشنل سیکرٹری ہائر ایجوکیشن سمیت دیگر متعلقہ حکام کی شرکت۔رواں مالی سال میں سیکنڈری ایجوکیشن کی 242 نئے ترقیاتی اسکیمات شامل ہیں۔ محکمہ ہائیر ایجوکیشن کی کل جاری 73 اور نئی اسکیمات کی تعداد 84 ہے۔ اجلاس کو محکمہ اعلی تعلیم کو کل موصول شدہ پی سی ون کی تعداد، ڈی ایس سی اور پی ڈی ڈبلیو پی اسکیمات سے متعلق بھی اجلاس کو رواں مالی سال میں اب تک فنڈز کے اجرائ کے حوالے سے بھی گزشتہ مالی سال کے دوران کالج ایجوکیشن کی 12 ترقیاتی اسکیمات مکمل کی گئی ہیں۔ رواں مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر کی 27 جاری اور 10 نئی ترقیاتی اسکیمات شامل ہیں۔ دس نئی ترقیاتی اسکیمات میں 04 اسکیمات ڈی ایس سی اور 06 ترقیاتی منصوبے پی ڈی ڈبلیو پی کے ہیں۔ صوبے بھر کی تمام ڈی ایچ کیوز کی بحالی پر کام کیا جا رہا ہے۔ہسپتالوں میں زچہ و بچہ یونٹ کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔ جنوبی بلوچستان پیکج کے تحت میڈیکل ٹراما اور ایمرجنسی مراکز قائم کیے جا رہے ہیں۔رواں مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کی 76 نئی اور 78 جاری ترقیاتی اسکیمات شامل ہیں۔ ٹیلی ہیلتھ، بی ایچ یوز اور ٹی ایچ کیوز کی بہتری پر کام جاری ہے۔ باسکیمات کی بروقت تکمیل کے لیے ڈی ایس سیز اور پی ڈبلیو ڈی پی کے عمل کو تیز کیا جائے۔ دور افتادہ علاقے جہاں مڈل اور ہائی سکول نہیں ہیں ان علاقوں میں اسکولوں کے قیام کو ترجیح دی جائے۔ پری فیب سکولوں کے قیام کے لیے تمام پری کوالیفیکیشن کے عمل کو مکمل کیا جائے۔ ماڈل ہائی ریزیڈنشل سکولز کی عمارتوں کی تعمیر میں تمام ضروری جزئیات کو مد نظر رکھا جائے۔ ماڈل ہائی ریزیڈنشل اسکولوں کی عمارتوں کی تعمیر کے لیے ماسٹر پلان پالیسی مرتب کی جائے۔ڈیزائن میں مجوزہ تبدیلیوں کو سلسلہ وار پورا کیا جائے۔ تعلیم اور صحت موجودہ حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہے۔بچے ہمارا مستقبل ہیں اور بہتر تعلیم روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔