ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پوتن نے مشرقی یوکرین میں باغیوں کے زیر کنٹرول علاقوں ڈونیسک اور لوہانسک کو بطور آزاد ریاستیں تسلیم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے فوج بھیجنے کا حکم دے دیا۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے قوم سے خطاب میں کہا کہ یوکرین کے 2 علاقوں ڈونیسک اور لوہانسک کو آزاد ریاستوں کے طور پر تسلیم کرنے کے حکم نامے پر دستخط کردیے ہیں تاہم روسی پارلیمنٹ سے کہا ہے کہ وہ جلد از جلد اس کی توثیق کرے۔
روسی صدر نے باغیوں کے زیر تسلط ریاستوں کو نہ صرف خود مختار ریاستیں تسلیم کرلیا بلکہ وہاں امن و امان کے قیام کے لیے روسی فوج بھیجنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
روس کا یہ اقدام یوکرین کی سرحدوں پر اس کی فوجی تعیناتی پر کئی مہینوں کی کشیدگی کے درمیان سامنے آیا، جس نے ایک جنگ کا خدشہ پیدا کردیا تھا۔
دوسری جانب برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن اور نیٹو کے سیکریٹری جنرل اسٹولٹن برگ نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے مشرقی یوکرین کے دو ریاستوں کو تسلیم کرنے کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔
ادھر وائٹ ہاؤس نے کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرین کے مشرقی علاقوں کی آزادی کو تسلیم کرنے کے پیوٹن کے فیصلے کی سخت مذمت کی ہے اورڈونئیسک اور لوہانسک پر پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔