کوئٹہ: ملازمین نے 4 ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے پر کچرے سے بھری گاڑیاں میٹروپولیٹن کے آفس کے باہر کھڑی کردیں۔
میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ملازمین کا 4 ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے پر احتجاج جاری ہے، ملازمین نے کچرے سے بھری گاڑیاں میٹروپولیٹن کے آفس کے باہر کھڑی کردیں، ملازمین نے کہا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
یاد رہے دو روز قبل کوئٹہ میں میٹرو پولیٹن ملازمین نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف ریلی نکالی اور ریلی میٹروپولیٹن سبزہ زار سے پریس کلب پر دھرنے کی شکل اختیار کرگئی ملازمین نے میٹروپولیٹن حکام اور صوبائی حکومت کو 2 روز کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا کہ 2 روز سے ملازمین کو تنخواہیں ادا نہیں کی گئی تو ریڈزون جائیں گے۔
ملازمین نے کہا کہ 2 روز بعد کام چھوڑ ہڑتال بھی کریں گے شہر میں صفائی مہم کا بھی بائیکاٹ کریں گے، اگر تنخواہیں ادا نہیں کی گئی تو قبر بھی جانے کو تیار ہیں، ہمیں مجبور نا کیا جائے ریڈ زون کیا وزیر اعلیٰ ہاؤس بھی جائیں گے، ہمارے بچے 2 وقت کی روٹی سے محروم ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان اقلیتی ونگ کی سیکرٹری اطلاعات حناء گلزار نےایک بیان میں حکومتی بے حسی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ حکومت نے مسیحی برادری کے ساتھ ان کے مذہبی تہوار کی عام تعطیلات کا معاوضہ ادا نہ کر کے اقلیتی برادری خاص طور پر مسیحی برادری کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کررکھاہے‘ جہاں دنیا بھر میں لوگوں کو ان کے مذہبی تہوار منانے کے لئے آسانیاں پیدا کی جاتی ہیں وہیں یہاں مشکلات پیدا کر کے مسیحی برادری کو معاوضے سے محروم رکھا جارہا ہے-