اب وہ غیر جمہوری راستے پر چل پڑے ہیں۔ ایم کیو ایم وفد سے اسلام آباد میں ملاقات اچھے اور خوشگوار ماحول میں ہوئی
پی ٹی آئی واحد سیاسی جماعت ہے جو بحثیت جماعت کرپٹ جماعت ہے
عمران خان کی نہ ذہنی حالت ٹھیک ہے اور نہ ہی اس کا جغرافیہ اور اردو ٹھیک ہے
پیپلز پارٹی چاہتی ہے سندھ میں جلد سے جلد بلدیاتی انتخابات ہوں اور ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کی روح کے مطابق قانون کو بہتر کریں گے، پی پی پی رہنمائوں کی مشترکہ پریس کانفرنس
کراچی : وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی اور پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری وقار مہدی نے کہا ہے کہ گذشتہ روز پارلیمنٹ لاجز پر حکومتی ریاستی دہشتگردی نے ثابت کردیا ہے کہ وزیر اعظم نے اپنے خلاف پیش ہونے والی عدم اعتماد کی تحریک میں شکست قبول کرلی ہے اور اب وہ غیر جمہوری راستے پر چل پڑے ہیں۔ ایم کیو ایم کے وفد سے گذشتہ روز اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات اچھے اور خوشگوار ماحول میں ہوئی ہے۔ پی ٹی آئی اس ملک کی واحد سیاسی جماعت ہے، جو بحثیت جماعت کرپٹ جماعت ہے۔ وزیر اعظم کی کراچی میں تقریر ایک شکست خوردہ کی تقریر تھی، جس کو روحانیت ، معیشت اور خاتم النبین تک نہ کہناآئے وہ بلاول بھٹو کی اردو پر تنقید کررہاہے۔ عمران خان کی نہ ذہنی حالت ٹھیک ہے اور نہ ہی اس کا جغرافیہ اور اردو ٹھیک ہے۔ پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ سندھ میں جلد سے جلد بلدیاتی انتخابات ہوں اور ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کی روح کے مطابق قانون کو بہتر کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے جمعہ کے روز اپنے کیمپ آفس میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کے نجمی عالم بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ ان دونوں رہنمائوں نے کہا کہ سب سے پہلے ہم پارلیمنٹ لاجزپر ریاستی جبر کی شدید الفاظ میںمذمت کرتے ہیں اس اقدام کو ریاستی دہشتگردی تصور کرتے ہیں۔سعید غنی نے کہا کہ وفاقی حکومت اس وقت بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکی ہے اور اس بوکھلاہٹ میں انہوںنے جے یو آئی (ف) کے دو ارکان قومی اسمبلی ، ایک سینیٹر اور ان کے درجنوں کارکنوں پر تشددکیا۔ انہوںنے کہا کہ پولیس کی جانب سے پارلیمنٹ لاجزکے تقدس کو پامال کیا گیا۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی بھی پارلیمنٹ لاجز میں اس طرح کی دہشتگردی نہیں ہوئی ہے اور یہ سب عمران خان کی گھبراہٹ اوربوکھلاہٹ کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوںنے کہا کہ حکومت نے ذہنی طور پر اس بات کو تسلیم کرلیا ہے کہ ان کے خلاف پیش کردہ تحریک عدم اعتماد منظور ہوجائے گی۔ سعید غنی نے کہا کہ خود عمران نیازی اور ان کے چول وزراء نے اس بات کو بھی تسلیم کرلیا ہے کہ ان کے ارکان قومی اسمبلی ان سے انحراف کرچکیں ہیں، اسی لئے انہوںنے عدم اعتماد والے روز اپنے ارکان کو نہ آنے اور اگر کوئی ان کا ارکان اسمبلی میں آئے تو اس کو ووٹ کو تسلیم نہ کرنے کے اسپیکر کو احکامات دئیے ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ عمران خان جو آج کل بہت پریشان اور بوکھلاہٹ کا شکار ہے اب وہ پاگل پن کی حد تک پہنچ چکا ہے اور جس طرح کی زبان استعمال کررہا ہے وہ اس بات کو ثابت کررہی ہے کہ اس کے حواس اس کے قابو میں نہیں ہیں اور ایک شکست خوردہ وزیر اعظم کی زبان بول رہا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ بلاول بھٹو کی اردو پر وہ شخص تنقید کررہا ہے، جس کا نہ جغرافیہ درست اور نہ ہی اس کی اردو ٹھیک ہے۔
انہوںنے کہا کہ جو شخص روحانیت، معیشت اور یہاں تک کہ خاتم النبین تک کا لفظ استعمال نہ کرسکتا ہوں وہ کس منہ سے بلاول بھٹو پر تنقید کررہا ہے۔ انہوںنے کہا کہ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا عمران خان کے تینوں بچوں کو اردو آتی ہے، کیا ان کے بچے پاکستان آنے سے انکاری نہیں ہیں۔ اس موقع پر وقار مہدی نے کہا کہ میں سب سے پہلے پاکستان کے عوام بالخصوص صوبہ سندھ اور پنجاب کے عوام کو دل کی گہرائیوں سے عوامی لانگ مارچ میں تاریخی شرکت پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، انہوںنے کہا کہ ملکی تاریخ کے سب سے طویل 2000 کلومیٹر طویل 10 روزہ عوامی لانگ مارچ میں جس طرح سندھ بھر اور بعد ازاں پنجاب میں عوام نے عظیم الشان استقبال کیا اور قافلہ میں شامل ہوئے یہ اپنی مثال آپ تھا۔ وقار مہدی نے کہا کہ گذشتہ روز پارلیمنٹ لاجز میں ریاستی دہشتگردی نے عمران نیازی کے 146 روزہ دھرنے میں ان کی جانب سے پی ٹی وی پر حملہ کرنے اور پارلیمنٹ پر حملہ کی کوشش کی یاد تازہ کی ہے اور عمران نیازی نے جس طرح پارلیمنٹ لاجز کے تقدس کو پامال کیا ہے اس پر پوری قوم اسے کبھی معاف نہیں کرے گی۔ انہوںنے کہا کہ عمران خان جس طرح کی زبان کا استعمال کررہا ہے، ہم بھی کرسکتے ہیں لیکن ہماری قیادت نے ہمیں یہ تعلیم نہیں دی۔ انہوںنے کہا کہ میں عمران خان کو متنبہ کرتا ہوں کہ ہمارے کارکنوں نے نہ تو چوڑیاں پہنی ہیں اور نہ ہی ہماری خاموشی کو وہ ہماری کمزوری تصور کریں۔ انہوںنے کہا کہ پیپلز پارٹی کے جیالوں نے آمر ضیا اور مشرف کے دور میں بھی ان کا مقابلہ کیا ہے اور ہمارے کارکنان ان کا مقابلہ کرنے کی بھی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ اس وقت ملکی صورتحال ایسی نہیں کہ کہا جائے کہ ایمرجنسی لگ سکتی ہے، انہوںنے کہا کہ پرامن احتجاج اپوزیشن کا حق ہے ۔ ایک سوال پر انہوںنے کہا کہ اس ملک کے عوام اب عمران خان سے تنگ آچکیں ہیں اور وہ اس سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ ایک سوال پر انہوںنے کہا کہ جن جن ارکان قومی اسمبلی کو عوام میں ووٹ لینے جانا ہے وہ اس نااہل اور سلیکٹیڈ وزیر اعظم اور پی ٹی آئی سے منحرف ہیں اور وہ اس نااہل کو گھر بھیجنے کے لئے اپنی نسشتوں سے بھی ہاتھ دھونے کے لئے تیار ہیں۔ ایک سوال پر انہوںنے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ پی ٹی آئی کے درجنوں ارکان اپنی آئندہ کی سیاست کو بچانے اور عوام سے ووٹ لینے کے لئے ان کے درمیان جانے کی وجہ سے قومی اسمبلی رکنیت چھوڑنے کو تیار ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ اگر خود پی ٹی آئی کا شخص لیاقت جتوئی اس بات کا برملا اظہار کرے کہ ایک ایک سینیٹر کو سیٹ دینے کے لئے 35 کروڑ روپے لئے گئے ہیں۔ سینیٹ کا ووٹ دینے کے لئے پی ٹی آئی کے ووٹرز کو پیسہ دئیے گئے ہیں تو پھر میری اس بات کی مکمل تائید ہوجاتی ہے کہ پی ٹی آئی بحثیت ایک جماعت کرپٹ جماعت ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کے بعد کا خاکہ آئین میں موجود ہے اور اس پر تمام اپوزیشن جماعتوں کا اتفاق ہے۔ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کی تاریخ کے الیکشن کمیشن کے اعلان کے سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ ہم تو چاہتے ہیں کہ سندھ میں جلدسے جلد بلدیاتی انتخابات ہوں اور اس حوالے سے ہم سپریم کورٹ کے فیصلے لے مطابق قانون کو بہتر کریں گے