مقامی لوگوں کے کاروبارپر قبضے کیلئے غیر کشمیریوں کو سہولت فراہم کی جارہی ہے: فاروق عبداللہ
سری نگر: بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ مقبوضہ وا دی بالخصوص جموں خطے میں بیرونی لوگوں کے لیے راستہ ہموار کرنے کی خاطر مقامی لوگوں کو نظراندازکیا جا رہا ہے۔فاروق عبداللہ نے جموں میں ایک پارٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جموں کے لوگ اپنی سرکاری ملازمتوں کا خاتمہ دیکھ رہے ہیں اور موجودہ حکمرانوں نے پورے خطے کو اس خوفناک حالت تک پہنچا دیا ہے، جموں کی مقامی معیشت کا گلا گھونٹا جا رہا ہے کیونکہ بیرونی لوگوں کو خطے میں کاروبار سنبھالنے کے لیے سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگست 2019 کے بعد خطے میںپہلے ہی کان کنی اور دیگر ٹھیکوں کی الاٹمنٹ کا ایک بڑا حصہ چھین لیاگیا ہے۔ جموں میں گزشتہ آٹھ سال سے غیر یقینی صورتحال، بے روزگاری اور ترقی کا فقدان ہے۔فاروق عبداللہ نے مودی حکومت کے امن کے دعوؤں کو تنقید کا نشانہ بنانے ہوئے کہاکہ سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال، سیاسی کارکنوں کی روز مرہ کی ہلاکتیں اورگرینیڈ دھماکے زمینی حقائق کو بے نقاب کرتے ہیں اور حکومت کے امن کے دعوئوں کی نفی کرتے ہیں۔