آئندہ ماہ برمنگھم میں آئی سی سی بورڈ میٹنگ میں ایف ٹی پی پر بات ہوگی
کراچی: آئی پی ایل کے لیے ڈھائی ماہ کی طویل ’ونڈو‘ سے پاکستان کرکٹ کو بڑا نقصان ہوگا جب کہ دیگر تمام ممالک کے پلیئرز لیگ میں شریک ہوتے ہیں۔
گزشتہ دنوں بی سی سی آئی کے سیکریٹری جے شاہ نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ نئے ایف ٹی پی میں آئی پی ایل کے لیے بطور خاص ڈھائی ماہ کی ونڈو مختص ہو گی، نیا ایف ٹی پی 2024 سے 2031 تک کے لیے وضع کیا جائے گا،بھارت پر آئی سی سی کی خصوصی کرم نوازی کا پاکستان کو نقصان ہوگا۔
دنیا بھر کے کرکٹرز لیگ میں شریک ہوتے ہیں، ان کے بورڈز کو بھی آمدنی سے حصہ ملتا ہے، صرف پاکستانی پلیئرز سے ایونٹ سے دور ہیں،انھیں ڈھائی ماہ تک کرکٹ سے محروم رہنا پڑے گا۔ذرائع کے مطابق ابھی ایف ٹی پی فائنل نہیں ہوا لہذا بھارت کا اعلان حیران کن ہے، پی سی بی بھی معاملے پر کوئی تبصرہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، جولائی میں برمنگھم کامن ویلتھ گیمز کے دوران آئی سی سی بورڈ میٹنگ طے ہے اور ممکنہ طور پر یہ معاملہ وہاں زیربحث آئے گا۔بی سی سی آئی کا منصوبہ تمام ٹاپ انٹرنیشنل کرکٹرز کی اپنے ایونٹ میں شرکت لازمی بنانے کا ہے، اس سے باہمی انٹرنیشنل سیریز پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اگرچہ جے شاہ نے باہمی بین الاقوامی سیریز کھیلنے کا عزم بھی ظاہر کیا لیکن دنیا بھر میں ہونے والی لیگز اور آئی پی ایل میں توسیع کا معاملہ دیگر بورڈز سے ساتھ بحث طلب معاملہ ہے۔یاد رہے کہ پاکستانی پلیئرز کو ابتدائی ایڈیشن کے بعد آئی پی ایل سے باہر رکھا گیا، جس کا جواز بھارت ممبئی حملوں کو قرار دیتا ہے۔بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ نئے نشریاتی معاہدے کے بعد لیگ میں پیسے کی بہتات ہوگی، جس کے پیش نظر نئے ایف ٹی پی میں بڑی تبدیلیاں کیے جانے کا منصوبہ تیار کرلیا گیا جس کا اہم مقصد بھارتی ایونٹ کو زیادہ سہولت فراہم کرنا ہے۔