تعلیم تک رسائی ہر عورت کا شرعی اور معاشرتی حق ہے ، عورتوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کیلئے ہمیں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے ، وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کا علماء و مشائخ کے مشاورتی سیشن سے خطاب

:وفاقی وزیر مذہبی امور چوہدری سالک حسین نے کہا ہے کہ ایک تعلیم یافتہ عورت نسلوں کی نگراں ہوتی ہے، اس لئے تعلیم تک رسائی ہر عورت کا شرعی اور معاشرتی حق ہے ،ہم سب کو مل کر عورتوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے اور جن جن چیلنجز کا انہیں سامنا ہے ان کو دور کرنا چاہئے۔

وہ جمعہ کو یہاں کنونشن سینٹر میں مسلم معاشروں میں لڑکیوں کی تعلیم، چیلنجز اور مواقع کے حوالے سے علماء و مشائخ کے مشاورتی سیشن سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین معاشرے میں ایک مرکزی حیثیت رکھتی ہیں، وہ مائیں ،بیٹیاں، بیویاں اور بہنیں ہیں ،پیغمبر محمد ﷺ نے عورتوں کے لئے تعلیم کی اہمیت پر بہت زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک تعلیم یافتہ عورت نسلوں کی نگران ہوتی ہے، ایک ماں کے طور پر وہ اپنے بچوں کی پہلی استاد ہوتی ہے،ایک تعلیم یافتہ ماں اپنے بچوں میں اقدار، اخلاقیات اور علم کی محبت پیدا کرتی ہے، معاشرے کے مستقبل کے رہنماؤں کی تشکیل کرتی ہے۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ لڑکیوں اور عورتوں کے لئے علم کا حصول شریعت کے مقاصد اور عوامی مفاد کا ایک تقاضا بھی ہے،تعلیم عورتوں کو معاشرتی ترقی میں فعال طور پر حصہ لینے کی طاقت دیتی ہے، تعلیم خواتین کو اقتصادی ترقی میں کردار ادا کرنے، اپنے حقوق کی وکالت کرنے اور فیصلہ سازی کے عمل میں شامل ہونے کے لئے تیار کرتی ہے،اسلامی تاریخ میں عورتوں کی مثالیں ہمارے لئے ایک روشنی کی کرن ہیں،اسلام کی واضح رہنمائی کے باوجود بہت سے مسلم معاشروں میں عورتوں کی تعلیم کو ثقافتی رکاوٹوں، اقتصادی مسائل اور عدم تحفظ جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، یہ چیلنجز اسلام میں موجود نہیں ہیں بلکہ یہ سماجی روایات اور مذہبی تعلیمات کی غلط تشریح کا نتیجہ ہیں،ضروری ہے کہ خواتین کی تعلیم کی راہ میں رکاوٹوں کا سامنا حکمت اور اجتماعی کوششوں سے کیا جائے ۔ وزیر مذہبی امور کا کہنا تھا کہ حکومتیں، دینی علماء اور کمیونٹی کے رہنما مل کر ایسا ماحول پیدا کرنے کے لئے کام کریں جہاں لڑکیاں تعلیم کے حصول میں محفوظ اور معاونت محسوس کریں،اس میں سکالرشپ اور مالی امداد فراہم کرنا، محفوظ اور قابل رسائی سکولوں کا قیام، خواتین کی تعلیم پر اسلامی نقطہ نظر کے بارے میں آگاہی کو فروغ دینا اور ثقافتی غلط فہمیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے مذہبی رہنماؤں کو شامل کرنا شامل ہے،آج، ہم ایک ایسے دور میں رہ رہے ہیں جہاں ٹیکنالوجی اور جدید ٹولز تعلیم کے لئے بے مثال مواقع فراہم کرتے ہیں،ای لرننگ پلیٹ فارمز، کمیونٹی پر مبنی منصوبے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے لڑکیوں کی تعلیم میں بہتری کے لئے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں،ہمیں ان ٹولز کا بھرپور استعمال کرنا چاہئے تاکہ ہر لڑکی چاہے وہ کسی بھی سماجی و اقتصادی پس منظر سے تعلق رکھتی ہو، معیاری تعلیم تک رسائی حاصل کر سکے، عورتوں کی تعلیم صرف فرد کی ترقی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک خوشحال اور ہم آہنگ معاشرت کی بنیاد ہے،آئیں ہم عہد کریں کہ مسلم معاشروں میں لڑکیوں کو تعلیم کے ذریعے با اختیار بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں گے ۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ آئیے ہم غلط فہمیوں کو دور کریں، رکاوٹوں کو توڑیں اور ایک روشن مستقبل کے لئے راستہ ہموار کریں جہاں ہر عورت معاشرتی ترقی اور خوشحالی میں اپنا حصہ ڈال سکے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.