سپرنٹنڈنٹ آف پولیس قلات کے دفتر سے جاری نوٹس کے مطابق یہ امر نہایت سنجیدگی اور تشویش کا باعث ہے کہ حالیہ دنوں ایک پولیس آفیسر کی جانب سے اپنے تبادلے کے خلاف منظم انداز میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے من گھڑت بیانات، عوامی اپیلوں اور دباؤ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے، واضح اور دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا جاتا ہے کہ پولیس ایک مکمل طور پر ڈسپلنڈ اور قانون کے تابع فورس ہے جہاں ہر آفیسر اور جوان بلوچستان پولیس رولز، گورنمنٹ آف بلوچستان سروس ریگولیشنز، اور کنڈکٹ رولز کا پابند ہے، کسی بھی قسم کی سوشل میڈیا مہم، خود ساختہ عوامی دباؤ، یا ادارہ جاتی فیصلوں کو متاثر کرنے کی کوشش نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ یہ ایک سنگین محکمانہ بدنظمی کے زمرے میں آتی ہے یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لی جائے کہ ٹرانسفر و پوسٹنگ ایک مکمل طور پر انتظامی اختیار ہے، جو صرف اور صرف ادارہ جاتی مفاد سیکیورٹی ضروریات، اور عوامی خدمت کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے کسی بھی آفیسر کو ہر گز یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ اپنے تبادلے کو رکوانے یا منسوخ کروانے کے لئے سوشل میڈیا، سیاسی یا غیر رسمی ذرائع استعمال کرے ایسا عمل نہ صرف ڈسپلن کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ اس کے مرتکب آفیسر کے خلاف PEEDA ایکٹ اور محکمانہ قوانین کے تحت سخت کارروائی عمل میں لائی جاسکتی ہے سب انسپکٹر عبدالکریم مینگل کو آخری وارننگ دی جاتی ہے کہ 1- وہ بلا کسی تاخیر پولیس تھانہ خالق آباد میں اپنی حاضری یقینی بنائیں، 2- آئندہ کسی بھی قسم کی سوشل میڈیا مہم، بیانات دلوانے یا دباؤ ڈالنے کی کوشش سے مکمل طور پر اجتناب کریں، 3- بصورت دیگر ان کے خلاف شو کاز نوٹس، معطلی اور محکمانہ انکوائری سمیت سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، تمام پولیس آفیسران و اہلکاروں کو بھی سختی سے آگاہ کیا جاتا ہے کہ پولیس میں صرف دو چیزیں قابل قبول ہیں حکم کی تعمیل اور کارکردگی اس کے علاوہ کوئی بھی راستہ، خواہ وہ سوشل میڈیا ہو یا سفارش *ناقابل برداشت اور ناقابل معافی ہوگا، یہ ادارہ اب اس نہج پر پہنچ چکا ہے جہاں نہ سفارش چلے گی، نہ سوشل میڈیا— صرف قانون، صرف ڈسپلن، اور صرف کارکردگی، آخری بار یہ واضع کیا جاتا ہے کہ آئندہ اگر کسی بھی آفیسر یا اہلکار نے اس نوعیت کی حرکت کی تو اسے مثال بنایا جائے گا تاکہ پورا محکمہ ہمیشہ یہ سبق یاد رکھے کہ پولیس وردی عزت بھی دیتی ہے اور قانون شکنی پر سخت احتساب بھی کرتی ہی