محمود اچکزئی اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی اہم ملاقات، سیاسی و آئینی صورتحال پر تفصیلی مشاورت

اسلام آباد: قائدِ حزبِ اختلاف اور تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل خان آفریدی کے درمیان اسلام آباد میں ایک اہم ملاقات ہوئی، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی، آئینی، امن و امان اور معاشی صورتحال سمیت مختلف قومی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں سیکریٹری جنرل پاکستان تحریکِ انصاف سلمان اکرم راجہ، صدر پی ٹی آئی خیبر پختونخوا جنید اکبر خان، عاطف خان، صاحبزادہ صبغت اللہ، انور تاج، ڈاکٹر امجد خان اور محبوب شاہ سمیت دیگر رہنما شریک ہوئے۔

شرکاء نے سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت سے متعلق میڈیا میں زیرِ گردش اطلاعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ انہیں ان کے اہلِ خانہ اور ذاتی معالجین تک مکمل رسائی فراہم کی جائے اور جامع طبی معائنے اور علاج کی سہولت یقینی بنائی جائے۔ شرکاء نے عمران خان کی طویل قیدِ تنہائی ختم کرنے اور انہیں شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

ملاقات میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق مجوزہ قانون سازی اور آئینی ترمیم پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے مؤقف اختیار کیا کہ صوبوں کی تشکیل جیسے حساس معاملات پر فیصلہ وسیع تر سیاسی اتفاقِ رائے، عوامی مینڈیٹ اور آئینی تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے۔

محمود اچکزئی اور سہیل آفریدی نے اس امر پر اتفاق کیا کہ ملک کو درپیش آئینی اور سیاسی چیلنجز کے تناظر میں جمہوری قوتوں کو آئین کے تحفظ اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔ شرکاء نے کہا کہ آئین اور جمہوریت کی بحالی کے لیے ساتھ چلنے والی سیاسی جماعتوں کے لیے رابطے کے دروازے کھلے ہیں۔

ملاقات میں جلد تمام اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ اجلاس بلانے کا فیصلہ بھی کیا گیا، جس میں ملک کو درپیش سیاسی، آئینی، معاشی اور انتظامی مسائل کا جائزہ لے کر مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینے پر غور کیا جائے گا۔

شرکاء نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور وفاقی حکومت کی سیکیورٹی پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں صوبوں کے عوام بدامنی اور معاشی مشکلات سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

ملاقات میں پاک افغان تجارتی راستوں کی مسلسل بندش کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔ شرکاء نے کہا کہ راستوں کی بندش سے سرحدی علاقوں کے تاجروں، کاروباری افراد، مزدوروں، ڈرائیوروں اور ٹرانسپورٹرز کا روزگار متاثر ہو رہا ہے، اور حکومت سے تجارتی راستوں کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔

شرکاء نے قدرتی وسائل سے متعلق پالیسیوں میں مقامی آبادی کے حقوق اور معاشی مفادات کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ معدنیات اور دیگر وسائل سے متعلق فیصلوں میں مقامی لوگوں کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے۔

آزاد جموں و کشمیر کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے مظاہرین کے خلاف مبینہ تشدد، ہلاکتوں اور راستوں و انٹرنیٹ کی بندش پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سیاسی مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل اور شفاف و منصفانہ انتخابی عمل یقینی بنانے پر زور دیا۔

ملاقات میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے اعلان کردہ لانگ مارچ کی تیاریوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور محمود اچکزئی کو اس حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ شرکاء نے فیصلہ کیا کہ مارچ کے لیے سیاسی جماعتوں اور جمہوری قوتوں سے رابطے اور مشاورت کا عمل جاری رکھا جائے گا اور اسے منظم انداز میں آگے بڑھایا جائے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.