وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے محکمہ ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی سے ڈائریکٹر جنرل بی ایس سی اے ڈاکٹر حفیظ احمد جمالی، ڈائریکٹر جنرل نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (نیپا) کوئٹہ ڈاکٹر سید علی رضا شاہ اور ڈائریکٹر جنرل نیوٹیک بلوچستان ڈاکٹر حسین بخش مگسی نے ملاقات کی۔ملاقات میں ضلع نصیرآباد کے نوجوانوں اور خواتین کے لیے پیشہ ورانہ ترقی، جدید فنی تعلیم، تکنیکی تربیت اور روزگار سے منسلک مہارتوں کے فروغ کے حوالے سے مختلف اقدامات اور مجوزہ تربیتی پروگراموں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوانوں بالخصوص خواتین کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہنر فراہم کرنا پائیدار معاشی ترقی کی بنیادی ضرورت ہے۔ نصیرآباد میں ایسے تربیتی پروگرام متعارف کرانے کی ضرورت ہے جو مقامی ضروریات، دستیاب وسائل اور روزگار کی منڈی کے تقاضوں سے مطابقت رکھتے ہوں۔انہوں نے کہا کہ محض روایتی تعلیم پر انحصار کرنے کے بجائے نوجوان نسل کو عملی مہارتوں، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، کاروباری صلاحیتوں اور پیشہ ورانہ تربیت کے مواقع فراہم کرنا ہوں گے تاکہ وہ ملازمت کے حصول کے ساتھ اپنے کاروبار شروع کرنے کے بھی قابل بن سکیں۔ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ نصیرآباد کی خواتین میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں، تاہم ان صلاحیتوں کو معاشی مواقع میں تبدیل کرنے کے لیے موثر تربیتی سہولیات، ادارہ جاتی تعاون اور مارکیٹ سے منسلک ہنرمندی کے پروگرام ناگزیر ہیں۔ خواتین کی معاشی خودمختاری نہ صرف ان کے خاندانوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بناتی ہے بلکہ مجموعی سماجی و اقتصادی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔مشیر ترقی نسواں بلوچستان نے اس امر پر زور دیا کہ متعلقہ اداروں کے مابین مربوط اشتراکِ عمل کے ذریعے ایسے قابلِ عمل تربیتی منصوبے تشکیل دیے جائیں جن کے نتائج براہِ راست نوجوانوں اور خواتین کی زندگیوں میں بہتری کی صورت میں سامنے آئیں۔انہوں نے کہا کہ ترقی کے ثمرات صوبے کے ہر علاقے تک پہنچنے چاہئیں اور نصیرآباد جیسے اضلاع میں انسانی وسائل کی ترقی پر سرمایہ کاری مستقبل کے لیے نہایت اہم ہے۔ محکمہ ترقی نسواں خواتین کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں موثر کردار ادا کرنے کے قابل بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون کو اہمیت دیتا ہے۔