:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کے چیئرمین ملک محمد عامر ڈوگر نے وزارت مذہبی امور پر زور دیا کہ وہ سٹیک ہولڈرز کی حقیقی شکایات کا ازالہ کرے اور کابینہ کی منظور شدہ حج پالیسی 2025 اور سعودی عرب کی ہدایات کے مطابق انہیں سہولت فراہم کرے جبکہ قائمہ کمیٹی نے سروس پرووائیڈر ایگریمنٹ 2025 (ایس پی اے 2025) کا جائزہ لینے اور حج 2025 پر وزارت اور سٹیک ہولڈرز کے درمیان مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک ذیلی کمیٹی بھی قائم کر دی۔ قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کا تیسرا اجلاس جمعرات کو وزارت مذہبی میں چیئرمین ملک محمد عامر ڈوگر کی زیر صدارت منعقد ہوا۔سیکرٹری وزارت مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی نے کمیٹی کو جامع حج پالیسی 2025، پاکستان اور سعودی عرب میں وزارت کی جانب سے تیز تر انتظامات کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔
سیکرٹری نے کمیٹی کو سروس پرووائیڈر ایگریمنٹ 2025 پر بھی بریف کیا۔کمیٹی نے اس عمل میں تمام سٹیک ہولڈرز کے کردار پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا اور کہا کہ سعودیہ پاکستان حج معاہدہ 2025 کے مسودے میں کچھ بہتری نظر آ رہی ہے۔ چیئرمین نے وزارت پر زور دیا کہ وہ سٹیک ہولڈرز کی حقیقی شکایات کا ازالہ کرے اور کابینہ کی منظور شدہ حج پالیسی 2025 کے مطابق انہیں سہولت فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اس مقدس ترین فریضہ کے حوالے سے بروقت اور مناسب ہدایات دیتا ہے۔اس سلسلے میں کمیٹی نے ایک ذیلی کمیٹی مقرر کی جو دونوں فریقین کا موقف سن کر 5 دن میں اپنی رپورٹ مرکزی کمیٹی کو پیش کرے گی۔ ذیلی کمیٹی سید عمران احمد شاہ، ایم این اے، شگفتہ جمانی، ایم این اے اور آسیہ ناز تنولی
ایم این اے پر مشتمل ہوگی۔کمیٹی نے ذیلی کمیٹی کے اجلاسوں میں ایم این اے شیر علی ارباب کو بطور خاص مدعو کرنے کی ہدایت کی۔کمیٹی نے نیشنل ٹیسٹنگ سروسز (این ٹی سی) کے ذریعے حج 2025 کے لیے معاونین اور ناظم کی خدمات حاصل کرنے کے عمل پر تشویش کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے وزارت سے ’’حج احکام‘‘ کے حوالے سے بہترین تربیت کے انتظامات کی خواہش ظاہر کی۔اجلاس میں ارکان قومی اسمبلی سید عمران احمد شاہ، شہناز سلیم ملک، آسیہ ناز تنولی، منیبہ اقبال، ڈاکٹر نیلسن عظیم، مسرت رفیق مہیسر، شگفتہ جمانی، احمد سلیم صدیقی، محمد اعجاز الحق، محمد بشیر خان، مجاہد علی اور سید سمیع اللہ اور شیر علی ارباب سمیت ہوپ کے نمائندوں وفاقی وزیر مذہبی امور ، سیکرٹری مذہبی امور اور وزارت مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کے سینئر افسران نے شرکت کی ۔