موذی مرض کے تدارک اور روٹین ایمیونائزیشن کی شرح 38سے بڑھا کر 60فیصد تک لانے کیلئے ایل ایچ ویز اور ایل ایچ ڈبلیوز سمیت تمام دستیاب ورک فورس بروئے کار لائی جائے

پولیو کے خاتمے میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں ،وزیراعلیٰ بلوچستان
ہر بچے تک جی پی ایس کے ذریعے رسائی ممکن بنائی جائے انسداد پولیو مہم مہم کے معائنہ کےلئے غیر جانبدارانہ مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرائیں گے پولیو مہم کو بار آور بنایا جائے، کوئی کوتاہی یا سستی قابل برداشت نہیں
محکمہ صحت کو تمام درکار وسائل فراہم کریں گے تاہم اس کے بدلے ہمیں خاطر خواہ مثبت نتائج بھی چائیں، بار بار مختلف ٹیمیں عوام کا دروازہ کھٹکھٹا کر انہیں زہنی کوفت اور غیر ضروری پریشانی سے دوچار نہ کریں بلکہ آسانیاں پیدا کریں
کوئٹہ ( خ ن) وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے میں پولیو کے نئے کیس رپورٹ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس موذی مرض کے تدارک اور روٹین ایمیونائزیشن کی شرح 38 فیصد سے بڑھا کر 60 فیصد تک لانے کیلئے ایل ایچ ویز اور ایل ایچ ڈبلیوز سمیت تمام دستیاب ورک فورس بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے اور اس ضمن میں ٹھوس حکمت عملی وضع کرکے دس روز میں جامع روڑ میپ پیش کرنے کا حکم دیا ہے، وزیر اعلی بلوچستان کی زیر صدارت پیر کو ہونے والے اعلی سطحی اجلاس میں صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، پرنسیپل سیکرٹری عمران زرکون، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ شہاب الدین، آئی جی پولیس بلوچستان معظم جاہ انصاری، سیکرٹری صحت مجیب الرحمان، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز بلوچستان ڈاکٹر امین خان مندوخیل، ڈائریکٹر جنرل لیویز فورس نصیب اللہ خان، کمشنر کوئٹہ ڈویژن حمزہ شفقات، ڈی آئی جی پولیس اعتزاز حسین گورایا ، ایمرجنسی کنٹرول سینٹر کے کوارڈنیٹر انعام اللہ خان اور عالمی ادارہ صحت کے مقامی نمائندوں نے شرکت کی جبکہ اندرون بلوچستان کے تمام ڈویژنل کمشنرز نے بھی اجلاس میں آن لائن شرکت کی سیکرٹری صحت بلوچستان نے اجلاس کے شرکا کو انسداد پولیو سے متعلق کئے گئے اقدامات اور روٹین ایمیونائزیشن سے متعلق بریفنگ دی، وزیر اعلی بلوچستان نے انسداد پولیو مہم اور روٹین ایمیونائزیشن کو ہم آہنگ کرکے جاری اقدامات کو بار آور بنانے کی ضرورت پر زور دیا میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبے میں پولیو کے نئے کیس رپورٹ ہونے پر نہ صرف وزیر اعظم کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے بلکہ اس ضمن میں ہمیں بھی گہری تشویش ہے، پولیو کے خاتمے کیلئے اقدامات کو مزید بہتر اور موثر بنانا ہوگا اور تمام تر کمی کوتاہیوں کا تدارک کرتے ہوئے اس قومی ذمہ داری کو مکمل سنجیدگی سے لینا ہوگا وزیر اعلی نے کہا کہ محکمہ صحت کو تمام درکار وسائل فراہم کریں گے تاہم اس کے بدلے ہمیں خاطر خواہ مثبت نتائج بھی چائیے انسداد پولیو مہم اور روٹین ایمیونائزیشن کو اس انداز میں مربوط بنایا جائے کہ بار بار مختلف ٹیمیں عوام کا دروازہ کھٹکھٹا کر انہیں زہنی کوفت اور غیر ضروری پریشانی سے دوچار نہ کریں بلکہ آسانیاں پیدا کریں اس مقصد کیلئے مختلف پروگراموں کو اینٹی گریٹ کرکے عوام کے لئے سہولتیں پیدا کی جائیں ، وزیر اعلی بلوچستان نے تمام ڈویژنز کمشنرز کو ہدایت کی کہ نیشنل الیکٹرانک ایمیونائزیشن رجسٹری کی ایپ کی تکمیل کے لئے محکمہ صحت کے حکام سے ہر ممکن معاونت کی جائے اجلاس میں آئی جی پولیس بلوچستان معظم جاہ انصاری نے انسداد پولیو مہم کے دوران سیکورٹی فراہمی کے امور پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے مہم کے دوران کمیونٹی پولیسنگ کی تجویز پیش کی وزیر اعلی بلوچستان نے ہدایت کی کہ تجویز کا جائزہ لینے کیلئے محکمہ صحت اور محکمہ داخلہ پروپوزل مرتب کرکے پیش کریں تاکہ اس پر مزید غور و خوض کیا جاسکے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.