پانی کی بڑھتی ہوئی کمی کے مسئلہ کے حل کیلئے بھرپور کوششیں کررہے ہیں : صدر مملکت

پانی کی قلت اور گلوبل وارمنگ پر قابو پانے کیلئے مربوط اقدامات کی ضرورت ہے‘آبی وسائل کے تحفظ اور مینجمنٹ کیلئے مزید تحقیق سے مثبت نتائج برآمد ہوں گے‘ملک میں پانی کی بڑھتی ہوئی کمی کے مسئلہ کے حل کیلئے بھرپور کوششیں کررہے ہیں

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا پانی کے استعمال کے مو ثر نظام پر بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب
اسلام آباد:صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پانی کی قلت اور گلوبل وارمنگ پر قابو پانے کیلئے مربوط اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبی وسائل کے تحفظ اور مینجمنٹ کیلئے مزید تحقیق سے مثبت نتائج برآمد ہوں گے، حکومت ملک میں پانی کی بڑھتی ہوئی کمی کے مسئلہ کے حل کیلئے بھرپور کوششیں کررہی ہے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار پیر کو یہاں پانی کے استعمال کے مو ثر نظام پر بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس میں وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی سینیٹر شبلی فراز، پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز کے چئیرمین ڈاکٹر محمد اشرف، انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر جنرل مارک سمتھ، انسٹیٹیوٹ کے پاکستان میں نمائندہ ڈاکٹر محسن حفیظ، انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹیٹیوٹ کی ممبر بورڈ آف ڈائریکٹرز سیمی کمال سمیت موسمیاتی اور آبی ماہرین نے شرکت کی۔

صدر مملکت نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر کو گلوبل وارمنگ اور دیگر موسمیاتی چیلنجز کا سامنا ہے، حکومت پانی کے ذخائرکی بہتری کیلئے کام کررہی ہے، زراعت کے شعبے میں پانی کا بہتر استعمال بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کانفرنس کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ سابق چیف جسٹس نے پانی کی سٹوریج کے حوالے سے بہت کام کیا، گلوبل وارمنگ بھی پانی کے ذخائرکیلئے مسئلہ ہے، پانی کے استعمال میں سب کو ذمہ داری کا احساس دلاناچاہیے، پرانے وقتوں میں تہذیب دریاو ں کے ساتھ چلتی تھی، بلوچستان میں سینکڑوں چھوٹے ڈیم بن رہے ہیں، آج پانی کو ری سائیکل کرنے کی ضرورت ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ گلوبل وارمنگ اور دیگر موسمیاتی چیلنجز سے کم اور زیادہ بارشیں پریشانی کا باعث ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان، تھرپارکر اور چولستان کو پانی کی قلت کا مسئلہ درپیش ہے، کوئٹہ کو تین سال سے پانی کی سنگین قلت کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔

ڈاکٹر عارف علوی نے کہاکہ بلوچستان میں سینکڑوں کی تعداد میں چھوٹے ڈیم بن رہے ہیں تاکہ دوردراز علاقوں میں پانی کو ذخیرہ کیا جاسکے، پانی کے تحفظ کیلئے حکومتی سطح پر اقدامات ناگزیر ہیں، زرعی شعبہ سے وابستہ افراد اور کسانوں کو بھی پانی کی بچت کو اپنا شعار بنانا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ پانی بچانے کیلئے بھرپور اقدامات کی ضرورت ہے، وضو کرتے ہوئے پانی کے استعمال میں احتیاط برتنے کا حکم دیاگیا ہے، صاف پانی کی فراہمی اور تحفظ سے بیماریوں سے بھی بچا جاسکتا ہے، دنیا کے دیگر ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی پانی کے تحفظ کیلئے سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے، کراچی میں صنعت کو ری سائیکل پانی فراہم کیا جانا چاہئے۔ صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہاکہ پنجاب میں زمین سے 12 ملین ایکڑ فٹ پانی نکالا جاتا ہے جو باعث تشویش ہے۔ صدر نے کہاکہ گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں ہوا میں پانی کا تناسب بڑھ جائے گا جس سے کئی علاقوں میں کم اور کہیں زیادہ بارشیں ہوں گی۔ انہوں نے 2018ء کی واٹر پالیسی کو بہت بہتر قرار دیتے ہوئے کہاکہ اس پر عملدرآمد حکومت کی ذمہ داری ہے۔ صدر مملکت نے کہاکہ قدیم تہذیبیں اور شہری آبادیاں دریاں کے کناروں پر آباد تھیں اور موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں جب ان دریاں

Leave A Reply

Your email address will not be published.