بلوچستان عوامی پارٹی کی مرکزی جنرل کونسل کے رکن میر ظفر قمبرانی نے کونسل کے 13ممبران،17یونٹ صدرو جنرل سیکرٹریزاور سینکڑوں کارکنوں کے ہمراہ پارٹی چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی پر چند افراد کا قبضہ ہے مزید غیر جمہوری پارٹی کا حصہ نہیں رہ سکتے اور آئندہ کا سیاسی لائحہ عمل تمام دوستوں کی مشاورت سے طے کریں گے۔ یہ بات انہوں نے اتوار کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر مرکزی کونسل کے ممبران ساحر علی اعوان،موسیٰ ہزارہ سمیت پارٹی کے کارکنوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی، میر ظفر قمبرانی نے کہا کہ تین سال قبل جب بلوچستان عوامی پارٹی بنی تو اس کے منشور میں شامل تھا کہ پارٹی ہر قسم کے تعصبات سے پاک ہوگی اور تمام اقوام و ساتھیوں کو متحد کر کے بلوچستان کی ترقی کے لئے جدوجہد کی جائیگی لیکن اس کے برعکس پارٹی میں ہر قسم کا تعصب رکھا گیا مخصوص افراد کو ہر سطح پر نوازا گیا اور پسند نا پسند کی بنیاد پر فیصلے کئے گئے انہوں نے کہا کہ وہ سیاستدان جنہوں نے پارٹی کو بنانے میں کردار ادا کیا بھی اپنے مفادات کے حصول میں لگ گئے اور پارٹی ورکرز کو بھول کر صرف اپنے مفادات حاصل کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ہمارا بلوچستان عوامی میں شامل ہونے کا مقصد صوبے کی خدمت،روزگار کی فراہمی، پاکستان کی یکجہتی کے لئے کام، صھت اور انصاف کے نظام کو بہتر بنا نا تھا مگر ایسا نہ ہوسکا اور صوبہ اقتصادی ترقی کے اہداف، سی پیک سے فائدہ، صنعتی زونز کے قیام، قومی شاہراہوں کو دو رویہ کرنے سمیت کسی بھی قسم اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا انہوں نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی میں پسند نا پسند کی بنیاد پر عہدے تقسیم ہوئے، ضلع کوئٹہ کے انتخابات بھی غیر آئینی طریقے سے کروائے گئے تین سال میں مرکزی جنرل کونسل کا ایک بھی اجلاس نہیں بلایا گیا پارٹی کی اعلیٰ مشاورتی کونسل سے کسی بھی قسم کی مشاو رت نہیں کی جاتی جس سے پارلیمانی ساتھیوں کے اختلافات بڑھ رہے ہیں جبکہ صرف تین ونگز بنائے گئے جن میں سے طلباء ونگ میں آج بھی گروپ بند ی ہے انہوں نے کہا کہ تمام صورتحال کو مدنظررکھتے ہوئے بلوچستان عوامی پارٹی سے مایوس ہوکر مرکزی جنرل کونسل کے 13 ممبران،کوئٹہ شہر کے 17یونٹ سیکرٹریز اور مختلف یونٹوں کو 29 ممبران پارٹی بنیادی رکنیت سے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کرتے ہیں اور آئندہ کا لا ئحہ عمل ہم خیال ساتھیوں کی مشاورت سے طے کرنے کے بعد اسکا اعلان کریں گے۔