امریکہ نے نائجیریا پر مذہبی پابندی عائد کرتے ہوئے بلیک لسٹ کر دیا
حیرانی کی بات یہ ہے کہ یہ بیان دیتے ہوئے مائیک پومپیو نے انڈیا کا ذکر تک نہیں کیا شاید اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ انڈین حکومت اور واشنگٹن کے مابین بہت اچھے تعلقات ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ مودی کا رویہ بھی بہت اچھا ہے۔
انڈیا نے سب کے سامنے سیکولر ہونے کا ڈھونگ رچا رکھا ہے مگر نریندرا مودی کی قیادت میں انڈیا میں مذہب کا استحصال کس قدر ہے اور ہندوازم کون سی بھیانک شکل اختیار کر چکا ہوا ہے یہ سب کے سامنے ہے۔
امریکہ نے نائجیریا کے ساتھ ساتھ ایریٹیرا،میانمار،نارتھ کوریا،تاجکستان اور ترکمانستان کو بلیک لسٹ کیا گیا ہے۔جبکہ پومپیو نے سوڈان اور ازبکستان سے پابندیاں ہٹانے کا اعلان کیا ہے کیونکہ حالیہ دنوں میں ان دونوں ممالک کے امریکا کے ساتھ تعلقات بہت اچھے ہوئے ہیں۔ نائجیریا سے متعلق رواں برس میں امریکہ میںایک خصوصی رپورٹ شائع کی گئی جس میں نائجیریا میں بڑھنے والی مسلم انتہا پسندی کے حوالے سے انکشاف کیے گئے کہ مستقبل میں کس رخ شکل اختیار کر سکتی ہے۔
لہٰذا ممکنہ مسائل کے پیش نظر امریکہ نے ابھی سے ہی مذہبی آزادی کے حوالے سے نائجیریا کو بلیک لسٹ کر دیا ہے۔رپورٹ میں ذکر کیا گیا کہ نائجیریا میں کئی مسلم انتہا پسند گروپ ہیں جنہیں وہاں کی عدالتوں نے بھی بین کر دیا ہوا ہے اور ان سبھی گروپ نے ایران سے متاثر ہو کر یہ راہ اختیار کی ہے۔ لہٰذا جب تک نائجیریا میں مسلم انتہا پسندی کا خاتمہ نہیں ہو جاتا تب تک نائجیریا کو مذہبی پابندی کا سامنا رہے گا۔