سپریم کورٹ : قتل کے جرم میں عمر قید کے ملزم عدم شواہد کی بنیاد پر 13سال بعد بری

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے قتل کے جرم میں عمر قید  کے ملزم رفاقت علی کو عدم شواہد کی بنیاد پر  13 سال بعد بری کر نے کا حکم دیدیا ہے۔ عدالت عظمی نے قرار دیا ہے ک  دو شریک ملزمان کو ٹرائل کورٹ بری کر چکی ہے، جن شواہد پر شریک ملزمان بری ہوئے ان شواہد پر مرکزی ملزم رفاقت علی  کو سزا نہیں دی جا سکتی۔ پیر کو جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے  ملزم رفاقت علی کی عمر قید کی سزا کے فیصلے  کیخلاف دائر اپیل پر سماعت کی۔ دوران سماعت درخوستگزار ملزم رفاقت علی کی وکیل عائشہ تسنیم نے دلائل دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ  ٹرائل کورٹ سے دو شریک ملزمان کی پہلے ہی بریت ہو چکی ہے،قتل کے واقعہ کا کوئی گواہ نہیں ہے۔ عدالت عظمی نے قتل کے جرم میں عمر قید کے ملزم رفاقت علی کو عدم شواہد کی بنیاد پر بری کر نے کا حکم دیدیا۔ واضح رہے کہ ملزم رفاقت علی کو مرزا مبشر بیگ کو قتل کے الزام میں دو ہزار نو میں گرفتار کیا گیا تھا،ٹرائل کورٹ نے ملزم رفاقت کو سزائے موت دی تھی اور دو شریک ملزمان کو بری کر دیا تھا   ،ہائیکورٹ نے ملزم رفاقت علی کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا ، ملزم رفاقت نے عمر ید کی سزا کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا تھا#/s#

Leave A Reply

Your email address will not be published.