میں گیس اور گرمیوں میں بجلی سے محروم ہوتے ہیں، جمال شاہ کاکڑ

بلوچستان میں گیس کامعاملہ ،وزارت توانائی نے رکن قومی اسمبلی جمال شاہ کاکڑ کے توجہ دلائو نوٹس پر عدالتی فیصلے کے بعد معاملے کے حل کی یقین دہانی کرائی ہے ۔گزشتہ روز قائمہ کمیٹی برائے سرکاری یقین دہانیوں کااجلاس ہوا ۔اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ(ن) بلوچستان کے جنرل سیکرٹری و رکن قومی اسمبلی جمال شاہ کاکڑ کی جانب سے بلوچستان میں اوور بلنگ اور اضافی سروس چارجز سے متعلق توجہ دلائو نوٹس سے متعلق بریفنگ دی گئی ۔وزیر قانون، انصاف اور انسانی حقوق نے وزیر توانائی (پٹرولیم ڈویژن)کی جانب سے 29 اپریل، 2024 کو ایم این اے جمال شاہ کاکڑکی جانب سے پیش کردہ کالنگ اٹینشن نوٹس کے جواب میں ایوان کو یقین دہانی کرائی تھی کہ یہ معاملہ عدالت کے فیصلے کے بعد حل کر دیا جائے گا۔ مزید یہ بھی یقین دہانی کرائی گئی کہ پٹرولیم ڈویژن اس معاملے کی جلد سماعت کے لیے کوشاں ہے۔سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (SSGC) سندھ اور بلوچستان میں کام کرتی ہے۔ بلوچستان SSGC کی مجموعی کارروائیوں کا 10 فیصد سے بھی کم حصہ رکھتا ہے (صرف 3 لاکھ صارفین)تاہم کمپنی کو بلوچستان میں آپریشنز کے دوران بڑے چیلنج کا سامنا ہے، جہاں 70 فیصد سے زائد گیس میٹروں میں چھیڑ چھاڑ کی جاتی ہے۔ اس کی ممکنہ وجہ سخت سردی اور نسبتا زیادہ تعداد میں کم آمدنی والی آبادی ہے۔ کمپنی گزشتہ پانچ سالوں سے مسلسل 59 فیصد UFG(غیر قانونی گیس کے نقصانات)کا سامنا کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں سالانہ مالی نقصان 20 ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔بلوچستان ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر عملدرآمد SSGC کو ریونیو میں نقصان کا باعث بن رہا ہے اور یہ حکومتِ پاکستان کی منظور شدہ اور OGRA کی جانب سے نوٹیفائی کردہ صارف گیس ٹیرف کے خلاف ہے۔بلوچستان ہائی کورٹ کے مذکورہ فیصلوں کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ اس مقدمے کی آخری سماعت 21 مئی 2025 کو سپریم کورٹ میں ہوئی۔ یہ معاملہ وفاقی کابینہ کی سطح پر بھی اجاگر کیا گیا ہے تاکہ سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کروائی جا سکے ۔رکن قومی اسمبلی جمال شاہ کاکڑ نے کہاکہ گیس کامسئلہ انتہائی سنگین ہے ،بلوچستان کے لوگ سردی میں گیس کی سہولت سے محروم ہیں جبکہ گرمی میں بجلی کی سہولت سے ،اس حوالے سے موثر اقدامات کی ضرورت ہے

Leave A Reply

Your email address will not be published.