نئے صوبے بنانا عملی طور پر ممکن نہیں،صرف ایک سیاسی نعرہ یا بحث تو بن سکتا ہے،، شاہ زمان غلزئی

بلوچستان عوامی پارٹی ،پاکستان اسمبلی آف مسلم یوتھ بلوچستان کے صوبائی صدر ، سینئر مرکزی رہنما و چیئرمین آئین ساز کمیٹی شاہ زمان خان غلزئی نے کہا ہے کہ پاکستان میں 12 نئے انتظامی صوبے بنانے کی تجویز سننے میں تو ایک انقلابی اور بڑا فیصلہ لگتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حکومت، جس میں پاکستان مسلم لیگ (ن)اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان عوامی پارٹی شامل ہیں، اور پاکستان تحریکِ انصاف اس وقت ایک بڑی اور منظم اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے، اس اہم تبدیلی کو آئینی طریقے سے پورا کرنا ممکن نہیں۔
بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 239(4) کے مطابق کسی بھی صوبے کو تقسیم کرنے یا اس کا نام یا حدود بدلنے کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں دو تہائی اکثریت چاہیے۔

اورساتھ ہی جس صوبے کو تقسیم کیا جا رہا ہو، اس کی صوبائی اسمبلی سے بھی دو تہائی منظوری لینا ضروری ہے۔لیکن اس وقت کسی بھی اسمبلی میں حکومت کے پاس اتنی اکثریت موجود نہیں۔

بلوچستان صوبائی اسمبلی میں کئی جماعتیں شامل ہیں پیپلز پارٹی، ن لیگ، بی اے پی، نیشنل پارٹی، جے یو آئی (ف)، جماعت اسلامی اور دیگر۔ یہاں کوئی جماعت اکیلے یہ فیصلہ نہیں کر سکتی۔اور ساتھ ہی نسلی اور قبائلی اختلافات کے باعث عوامی ردعمل بھی آ سکتا ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، لیکن وہ کبھی بھی کراچی کو الگ صوبہ بنانے کی حمایت نہیں کرے گی۔
اگر کراچی الگ ہوا، تو پیپلز پارٹی کو سیاسی نقصان ہوگا۔ایم کیو ایم کئی سالوں سے کراچی کو الگ صوبہ بنانے کی حامی ہے، مگر پیپلز پارٹی ہمیشہ اس کی مخالفت کرتی آئی ہے۔ پنجاب میں جنوبی پنجاب یا بہاولپور کو الگ صوبہ بنانے کی باتیں ضرور ہیں۔ لیکن ن لیگ کو وسطی پنجاب (جیسے لاہور، فیصل آباد)میں زیادہ ووٹ ملتے ہیں، اور وہ نہیں چاہے گی کہ پنجاب تقسیم ہو، کیونکہ اس سے اس کی سیاسی طاقت متاثر ہوگی۔
جبکہ خیبر پختونخوا صوبہ یہاں خیبر جنوبی یا ہزارہ صوبہ بنانے کی باتیں تو ہوئیں، مگر عوام میں اس کی حمایت بہت کم ہے۔تحریک انصاف اور دیگر جماعتیں اس بارے میں واضح موقف دینے سے بچتی ہیں۔1955 سے 1970 تک ون یونٹ کا نظام نافذ کیا گیا تھا، جس میں تمام صوبوں کو ایک یونٹ میں شامل کیا گیا تھا۔اس پالیسی نے مشرقی پاکستان کو احساسِ محرومی میں مبتلا کیا، اور 1971 میں وہ ہم سے الگ ہو گیا۔
اس سے یہ سبق ملا کہ شناخت کو دبانا خطرناک ہو سکتا ہے۔حکومت کے پاس نہ مکمل عددی طاقت ہے، نہ سیاسی اتفاق۔چاروں صوبوں میں لسانی، قبائلی اور جماعتی رکاوٹیں موجود ہیں۔اس وقت نئے صوبے بنانا عملی طور پر ممکن نہیں۔یہ صرف ایک سیاسی نعرہ یا بحث تو بن سکتا ہے، لیکن اس پر عمل کرنا فی الحال حقیقت سے بہت دور ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.