بلوچستان کے تمام اضلاع سے ہزاروں مردوخواتین علما کرام نوجوان اجتماع میں شرکت کریں گے، بشیر ماندائی

نائب امرا جماعت اسلامی بلوچستان بشیراحمدماندائی، پروفیسرمولانامحمدایوب منصورنے کہاکہ جماعت اسلامی کااجتماع عام تبدیلی کاپیش خیمہ اجتماع سے بلوچستان کے مسائل اجاگراورحل کے حوالے سے مشاورت ہوگی۔بلوچستان کے تمام اضلاع سے ہزاروں مردوخواتین علما کرام نوجوان سمیت شرکت کریں گے۔
ان خیالات کااظہارانہوں نے مرکزی اجتماع عام کی تیاریوں کے حوالے نصیرآباد جعفرآباد میں مختلف مقامات پرتقاریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے اجتماع عام21،22،23نومبرمینارپاکستان لاہور کیلئے بلوچستان بھر میں تیاریاں جاری ہیں ہرسطح پرعوام وکارکنان کی شرکت کے لیے انتظامات کیے جاریے ہیں۔بیداری،تحرک،تجدید عہد اور لائحہ عمل کیلئے اہم اجتماع ہے۔

اجتماع عام سے جماعت اسلامی کی پوری ٹیم ارکان وکارکنان اورعوام الناس کومتحرک متحدوفعال کرناہے۔21، 22 اور 23 نومبر کو منعقد ہونے والا یہ اجتماع عام کارکنان کی تربیت،قومی مسائل پر مشترکہ متفقہ لائحہ عمل مرتب کرنے اور ملک میں اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کے لیے تجدید عہد کا ذریعہ بنے گا۔اس بڑے اجتماع کی تیاریاں جعفرآبادنصیرآبادسمیت بلوچستان بھرمیں بھی دینی جوش وجزبے سے جاری ہیں۔
صوبائی قیادت نے ان تیاریوں کی نگرانی کے لیے مختلف کمیٹیاں تشکیل دے رکھی ہیں جوتیاریوں میں مصروف ہے۔بلوچستان کا یہ قافلہ نہ صرف جماعت کی مرکزی قوت کا اظہار ہوگا بلکہ اس بات کی بھی عکاسی کرے گا کہ جماعت اسلامی کی جڑیں ملک کے پسماندہ سمجھے جانے والے علاقوں میں بھی مضبوط ہیں۔یہ اجتماع عام محض ایک سیاسی جلسہ نہیں، بلکہ جماعت اسلامی کے نظریاتی مقاصد کی عکاسی کرتا ہے۔
اس کا بنیادی مقصد کارکنان کی فکری و اخلاقی تربیت کرنا، ملک میں اسلامی نظام حیات کے نفاذ کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور موجودہ سیاسی و معاشی بحران سے نکلنے کے لیے ایک عملی قومی لائحہ عمل پیش کرنا ہے۔بلوچستان کیامیرممبرصوبائی اسمبلی مولاناہدایت الرحمانبلوچ اور دیگر رہنما قوم کوبلوچستان کے مسائل مشکلات وپریشانیوں اورزیادتیوں سے آگاہ کریں گے اور ایک مستحکم اور اسلامی پاکستان خوشحال بلوچستان کیلئے اپنامنصوبہ پیش کریں گے۔مینار پاکستان کا یہ اجتماع ملک میں تبدیلی کی لہر پیدا کرنے اور اسلامی نظام کے قیام کے لیے نئی امنگیں بیدار کرنے کا نقطہ آغاز ہوگا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.