خیبرپختونخوا میں 39 فیصد بچے سکولوں سے باہر، تعداد 40 لاکھ سے زائد ہو گئی

پشاور: خیبرپختونخوا میں 39 فیصد بچے سکولوں سے باہر ہیں، صوبے بھر میں 40 لاکھ سے زائد بچے سکول نہیں جاتے، ضم شدہ قبائلی اضلاع میں بھی سکولوں سے باہر بچوں کی تعداد 30 لاکھ سے بڑھ گئی۔بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری سکولوں کے اساتذہ کے ایک سروے کے مطابق صوبے بھر میں 40 لاکھ سے زائد بچے سکول نہیں جاتے جبکہ ضم قبائلی اضلاع میں 30 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں ، ضم شدہ اضلاع میں 74 فیصد لڑکیاں اور 38 فیصد سے زائد لڑکے سکول نہیں جارہے، ضلع کولئی پالس میں سب سے زیادہ 77 فیصد بچے سکولوں سے باہر ہیں۔تحریک انصاف حکومت کے صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی نفاذ کے دعوے صرف دعوے ہی ثابت ہوئے، صوبے میں ہر سال داخلہ مہم کے باوجود سکولوں سے باہر بچوں کی تعداد خطرناک حد تک بڑھنے لگی، صوبے بھر میں 40 لاکھ سے زائد بچے زیور تعلیم سے محروم ہیں۔سروے کے مطابق ،اپر کوہستان میں 70 فیصد ،لوئرکوہستان 69،شمالی وزیرستان 66 ،باجوڑ63 ،تورغر 61، شانگلہ 55،لکی مروت 53،مہمند 51،کرم اوراورکزئی میں 47ڈی ا?ئی خان 46،ہنگو اوربنوں میں 47،پشاور44 اور مردان میں 28 فیصد بچے سکولوں سے باہرہیں، صوبے میں 65 فیصد سے زائد والدین معاشی حالات کے باعث بچوں کو سکول نہیں بھیج سکتے۔سکول نہ جا نے والے بچوں میں 12 فیصد بچے محنت مزدوری جبکہ 3فیصد تعلیم کی خواہش نہیں رکھتے، صحت کے مسائل کیباعث بھی 3 فیصد سے زائد بچے تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.