جمعیت علما اسلام ضلع کوئٹہ کے سینئر رہنما اور حلقہ سریاب کے ترجمان یوسف وقار شاہوانی نے اپنے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ سریاب کے عوام اس وقت شدید محرومی اور ناانصافی کا شکار ہیں۔ یہاں نہ گیس ہے، نہ بجلی، نہ اسپتال فعال ہیں اور نہ ہی ادویات یا ایمرجنسی سہولیات دستیاب ہیں۔ زندگی کے تمام بنیادی حقوق عوام سے چھین لیے گئے ہیں، اور شدید سردی کے موسم میں جب لوگوں کو گرمی، روشنی اور علاج کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، تب سریاب کے باسی اندھیروں، مایوسی اور مصیبتوں میں دھکیلے جا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ اسمبلی میں بیٹھے وہ نمائندے جو فارم 47 کی پیداوار ہیں، عوامی مسائل پر مکمل طور پر خاموش ہیں۔
نہ کسی ترقیاتی منصوبے پر کام ہو رہا ہے، نہ سڑکوں کی حالت بہتر کی جا رہی ہے، نہ اسپتالوں میں سہولیات میسر ہیں، اور نہ ہی عوامی فلاح و بہبود کے لیے کوئی عملی اقدام اٹھایا جا رہا ہے۔ترجمان سریاب یوسف وقار شاہوانی نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سریاب کو جان بوجھ کر پسماندگی کی گہرائیوں میں دھکیلا جا رہا ہے، تاکہ عوام کو محرومی اور بے بسی کے اندھیروں میں رکھا جا سکیانہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ سریاب کے عوام کو اب مزید خاموش نہیں رکھا جا سکتا۔
اگر حکومت اور متعلقہ اداروں نے فوری طور پر گیس، بجلی، صحت، پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی نہ بنایا، تو عوام اپنے حقوق کے لیے پرامن مگر بھرپور احتجاجی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہوں گے۔یوسف وقار شاہوانی نے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو ریلیف دے، انہیں سہولت فراہم کرے، نہ کہ انہیں سرد موسم میں ایندھن، دوائی اور علاج کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کرے۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ سریاب کے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ اب وعدوں اور دعوں کا وقت گزر چکا ہے، اب وقت ہے کہ عملی اقدامات کیے جائیں۔ عوام کو ان کا حق دیا جائے، بنیادی سہولیات بحال کی جائیں، اور سریاب کو بلوچستان کے دیگر علاقوں کی طرح ترقی اور خوشحالی کے راستے پر گامزن کیا جائے