وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور ہدایات کی روشنی میں ضلع گوادر میں اسکول انرولمنٹ مہم کے سلسلے میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس کی قیادت ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے کی۔ تقریب میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالشکور، ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن زاہد حسین، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (فیمیل) زرتون بلوچ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (میل) عبدالوہاب بلوچ، ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹر حفیظ بلوچ، میونسپل کمیٹی گوادر کے چیئرمین ماجد جوہر ،مختلف این جی اوز کے نمائندگان، تعلیم سے وابستہ شخصیات، صحافی حضرات اور دیگر متعلقہ افراد نے شرکت کی۔
اس موقع پر بتایا گیا کہ ضلع گوادر میں رواں سال 5500 بچوں کو اسکولوں میں داخل کرانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے تقریب میں شریک تمام شرکا کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ آوٹ آف اسکول بچوں کی سب سے بڑی وجہ غربت اور معاشی مسائل ہیں، جس کے باعث اکثر والدین بچوں کو تعلیم کے بجائے محنت مزدوری یا دیگر روزگار کی طرف مائل کر دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم صرف روزگار یا مالی فائدہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ انسان کو شعور، آگاہی اور ایک ذمہ دار شہری بننے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔ تعلیم کے ذریعے ہی انسان اپنے بنیادی اور قانونی حقوق سے واقف ہوتا ہے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔ڈپٹی کمشنر نے اس بات پر زور دیا کہ اسکول انرولمنٹ مہم کے پیغام کو گراس روٹ لیول تک پہنچایا جائے اور والدین کو قائل کیا جائے کہ وہ اپنے بچوں کو ہر صورت اسکولوں میں داخل کرائیں۔
انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے متعلقہ اداروں کو بھرپور محنت اور کوشش کرنا ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ انتہائی غریب خاندانوں کے بچوں کی تعلیم کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت والدین اور بچوں کو مختلف مراعات اور سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ بچوں کو تعلیم دلانے کی طرف راغب ہوں۔ انہوں نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ ضلع میں چائلڈ لیبر کے باعث بھی بہت سے بچے تعلیم سے محروم ہیں، جنہیں اسکولوں میں داخل کرانا ضروری ہے۔
تقریب میں یہ بھی بتایا گیا کہ ضلع گوادر میں ڈراپ آوٹ کی شرح بھی تشویشناک حد تک زیادہ ہے، جسے کم کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے۔ ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ اس مہم میں سیاسی جماعتوں، یونین کونسلز، وارڈ ممبران، موبائل لائبریریز، الیکٹرانک میڈیا، صحافی برادری، ضلعی و تحصیل کمیٹیوں، میونسپل کمیٹیوں اور دیہی علاقوں کے نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو اسکولوں میں داخل کرایا جا سکے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ضلع گوادر میں کام کرنے والے غیر مقامی مزدوروں کے بچوں کو بھی تعلیم کی سہولت فراہم کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں اور انہیں اسکولوں میں داخل کرانے کے لیے مربوط حکمت عملی اپنائی جائے تاکہ کوئی بھی بچہ تعلیم کے بنیادی حق سے محروم نہ رہے۔