اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان کے مشیر اور یونیسکو میں پاکستان کے نمائندے سید توقیر حسین شاہ نے یونیسکو کے ایگزیکٹو بورڈ کے 225ویں اجلاس میں پاکستان کا قومی مؤقف پیش کرتے ہوئے کثیرالجہتی نظام، بین الاقوامی تعاون اور مکالمے و باہمی احترام کے ذریعے عالمی امن کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔
اپنے بیان میں انہوں نے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کثیرالجہتی اداروں، ترقی پذیر ممالک کے درمیان تعاون اور مشترکہ کوششوں کی حمایت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بالخصوص ترقی پذیر ممالک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔
سید توقیر حسین شاہ نے تنازعات اور بحرانوں کے دوران انسانی جانوں، تعلیمی اداروں اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کی فوری ضرورت اجاگر کرتے ہوئے غزہ کی صورتِ حال پر خصوصی توجہ دینے پر زور دیا۔
انہوں نے اسکولوں سے باہر بچوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر ایک جامع عملی منصوبہ تیار کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا، تاکہ ہر بچے کو تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
پاکستانی نمائندے نے سائنسی علم تک منصفانہ رسائی، بین الاقوامی سائنسی تعاون کے فروغ اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں موجود عدم مساوات کم کرنے کی اہمیت بھی اجاگر کی۔
انہوں نے نسل پرستی، خواتین سے نفرت، اسلاموفوبیا، گمراہ کن معلومات اور نفرت انگیز بیانیے کے تدارک پر زور دیتے ہوئے مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجیز کے ذمہ دارانہ اور اخلاقی استعمال کی حمایت کی۔
سید توقیر حسین شاہ نے یونیسکو میں ادارہ جاتی اصلاحات کی حمایت بھی کی، تاکہ ادارے کی کارکردگی بہتر بنانے اور دنیا بھر میں اس کے مثبت اثرات کو وسعت دینے میں مدد مل سکے۔