سانحہ ماڈل ٹاؤن کی دوسری جے آئی ٹی کی تشکیل کیخلاف درخواست پر سماعت پیر کو ہو گی

0 170

لاہور  چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد قاسم خان کی سربراہی میں 7 رکنی لارجر بنچ (پیر) سانحہ ماڈل ٹاؤن کی دوسری جے آئی ٹی کی تشکیل کیخلاف درخواست پر سماعت کرے گا،ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس کو کیس کی پیروی سے ہٹا دیا گیاجبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے کیس کی پیروی ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ملک اختر جاوید کریں گے۔لاہور ہائیکورٹ کے جج چیف جسٹس ہائیکورٹ محمد قاسم خان کی سربراہی میں سات رکنی بنچ میں جسٹس محمد امیر بھٹی، جسٹس ملک شہزاد احمد خان، جسٹس مس عالیہ نیلم، جسٹس سردار محمدسرفراز ڈوگر، جسٹس اسجد جاوید گھرال اور جسٹس فاروق حیدر شامل ہیں۔عدالت نے پنجاب حکومت کی جانب سے دوسری جے آئی ٹی کی تشکیل کا نوٹیفکیشن معطل کررکھا ہے، لارجر بنچ نے توہین عدالت کے مرتکب ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس کی دوبارہ پیشی سے متعلق وضاحت بھی طلب کر رکھی ہے، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس کو 2019 میں توہین عدالت کی کارروائی شروع ہونے کی وجہ سے ہٹا دیا گیا تھا، پولیس انسپکٹر رضوان قادر اور کانسٹیبل خرم رفیق نے دوسری جے آئی ٹی کے اقدام کو چیلنج کررکھا ہے۔درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا کہ سانحہ ماڈل ٹان کی تحقیقات کیلئے 3 جنوری کو نئی جے آئی ٹی بنائی گئی ہے، فوجداری اور انسداد دہشتگردی قوانین کے تحت ایک وقوعہ کی تحقیقات کیلئے دوسری جے آئی ٹی نہیں بنائی جا سکتی، سانحہ ماڈل ٹاؤن کے135 گواہوں میں سے 86 گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہوچکے ہیں، سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی جے آئی ٹی حکومت کی بدنیتی کو ظاہر کرتا ہے۔درخواست گزاروں نے استدعا کی کہ عدالت نئی جے آئی ٹی کا نوٹیفکیشن غیرقانونی قرار دے کر کالعدم قرار دیا جائے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.