بلوچستان ہائی کورٹ میں بلوچستان بار کونسل کے قواعد میں حالیہ ترامیم کے خلاف دائر آئینی درخواست پر اہم سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس، جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران درخواست گزار عطااللہ لانگو اور میر رؤف عطا کی جانب سے پیش ہونے والے وکلاء نے مؤقف اختیار کیا کہ بلوچستان لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسل رولز 2020 میں 2 اپریل 2026 کے نوٹیفکیشن کے ذریعے کی گئی ترامیم، بالخصوص رول 13.5 اور نئے شامل کیے گئے رول 13.5ـA، لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسلز ایکٹ 1973 کی دفعات، خاص طور پر سیکشن 10(1)(b)، سے متصادم ہیں، اس لیے یہ ترامیم غیر قانونی، بلا اختیار اور کالعدم ہیں۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ نئی ترامیم کے ذریعے انرولمنٹ کمیٹی کے آئینی کردار کو محدود کیا گیا ہے اور عارضی سرٹیفکیٹس کو بعض صورتوں میں حتمی سرٹیفکیٹس کے برابر قرار دینا قانون کی روح اور طریقہ کار کے خلاف ہے۔ وکلاء نے عدالت سے استدعا کی کہ ان ترامیم کو معطل اور بعد ازاں کالعدم قرار دیا جائے، اور انرولمنٹ کا عمل صرف قانون کے مطابق تشکیل دی گئی کمیٹیوں کے ذریعے ہی انجام دیا جائے۔
عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد درخواست کو قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر دئیے۔ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس اجلاس کا مکمل ریکارڈ اور منٹس پیش کریں جس میں ان ترامیم کی منظوری دی گئی، جبکہ متعلقہ حکام کو نوٹیفکیشن کے اجرا اور اس پر عملدرآمد سے متعلق تمام ریکارڈ پیش کرنے کا بھی حکم دیا گیا۔
مزید برآں، عدالت نے نئی ترامیم کے بعد جاری کیے گئے عارضی انرولمنٹ سرٹیفکیٹس کی تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں تاکہ ان کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جا سکے۔دو رکنی بینچ نے عبوری حکم جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ 2 اپریل 2026 کے نوٹیفکیشن کے ذریعے کی گئی تمام ترامیم اور ان کے تحت ہونے والی کارروائیاں آئندہ سماعت تک معطل رہیں گی۔عدالت نے اپنے حکم کی کاپی ایڈووکیٹ جنرل کے دفتر اور دیگر متعلقہ فریقین کو فوری تعمیل کے لیے ارسال کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔کیس کی مزید سماعت 23 اپریل 2026 کو مقرر کی گئی ہے۔